تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 62

یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ لَکُمۡ لِیُرۡضُوۡکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرۡضُوۡہُ اِنۡ کَانُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۲﴾
تمھارے لیے اللہ کی قسم کھاتے ہیں، تاکہ تمھیں خوش کریں، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہے کہ وہ اسے خوش کریں، اگر وہ مومن ہیں ۔ En
مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں
En
محض تمہیں خوش کرنے کے لئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں حاﻻنکہ اگر یہ ایمان دار ہوتے تو اللہ اور اس کا رسول رضامند کرنے کے زیاده مستحق تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُ٘رْضُوْؔكُمْ وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکہ تمھیں راضی کریں اور ان کی طرف سے جو ایذا رسانی ہوئی وہ اس سے بری ٹھہریں۔ پس ان کی غرض و غایت محض یہ ہے کہ تم ان سے راضی رہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ اور اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ ان کو راضی کریں اگر وہ مومن ہوں کیونکہ بندۂ مومن اپنے رب کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ آیت ان کے ایمان کی نفی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر دوسروں کی رضا کو مقدم رکھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يحلفون بالله لكم لِيُرْضوكم}: فيتبرؤوا مما صدر منهم من الأذيَّة وغيرها، فغايتهم أن ترضَوْا عليهم. {والله ورسوله أحقُّ أن يُرْضوه إن كانوا مؤمنين}: لأنَّ المؤمن لا يقدِّم شيئاً على رضا ربِّه [ورضا رسوله]، فدلَّ هذا على انتفاء إيمانهم؛ حيث قدَّموا رضا غير الله ورسوله.