اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ (تو) ایک کان ہے۔ کہہ دے تمھارے لیے بھلائی کا کان ہے، اللہ پر یقین رکھتا ہے اور مومنوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور ان کے لیے ایک رحمت ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
En
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے
ان میں سے وه بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کان کا کچا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ وه کان تمہارے بھلے کے لئے ہے وه اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے، رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دکھ کی مار ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی یہ منافقین ﴿ الَّذِیْنَیُؤْذُوْنَالنَّبِیَّ ﴾”جو نبی کو ایذا دیتے ہیں۔“ یعنی جو ردی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَیَقُوْلُوْنَهُوَاُذُنٌؔ﴾”اور کہتے ہیں کہ وہ کان (کا کچا) ہے۔“اور انھیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی بدگوئی کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کچھ باتیں آپ تک پہنچتی ہیں تو ہم آپ کے پاس معذرت پیش کرنے کے لیے آجاتے ہیں اور آپ ہماری معذرت قبول کر لیتے ہیں کیونکہ آپ کان کے کچے ہیں، یعنی آپ سے جو کچھ کہا جاتا ہے آپ اسے تسلیم کرلیتے ہیں سچے اور جھوٹے میں تمیر نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تو محض یہ تھا..... اللہ ان کا برا کرے.... کہ وہ اس بات کی کوئی پروا کریں نہ اس کو اہمیت دیں۔ کیونکہ اگر ان کی کوئی بات آپ تک نہ پہنچے تو یہی ان کا مطلوب ہے اور اگر آپ تک وہ بات پہنچ جائے تو صرف باطل معذرتوں پر اکتفا کریں۔ پس انھوں نے بہت سے پہلوؤں سے برائی کا رویہ اختیار کیا۔
(۱) ان میں سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتے ہیں جو ان کی راہنمائی اور ان کو ہلاکت اور شقاوت کے گڑھے سے نکال کر ہدایت اور سعادت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تشریف لائے۔
(۲) وہ اس ایذا رسانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، یہ مجرد ایذا رسانی پر ایک قدر زائد ہے۔
(۳) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل و دانش میں عیب نکالتے تھے، آپ کو عدم ادراک اور سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز نہ کر سکنے کی صفات سے متصف کرتے تھے۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ عقل کامل سے بہرہ مند، بدرجہ اتم ادراک کے حامل، عمدہ رائے اور روشن بصیرت رکھنے والے تھے۔
بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُ٘لْاُذُنُخَیْرٍلَّـكُمْ ﴾”آپ کہہ دیجیے، کان ہیں تمھاری بہتری کے لیے“ یعنی جو کوئی بھلی اور سچی بات کہتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبول فرما لیتے ہیں۔ رہا آپ کا صرف نظر کرنا اور بہت سے منافقین کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا، جو جھوٹے عذر پیش کرتے تھے تو یہ آپ کی کشادہ ظرفی، ان کے معاملے میں عدم اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کی بنا پر تھا۔ ﴿سَیَحْلِفُوْنَؔبِاللّٰهِلَكُمْاِذَاانْقَلَبْتُمْاِلَیْهِمْلِتُعْرِضُوْاعَنْهُمْ١ؕفَاَعْرِضُوْاعَنْهُمْ١ؕاِنَّهُمْرِجْسٌ﴾ (التوبۃ: 9؍95) ”جب تم واپس لوٹو گے تو یہ منافقین قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔“رہی یہ حقیقت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کیا ہے اور آپ کی رائے کیا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یُؤْمِنُبِاللّٰهِوَیُؤْمِنُلِلْ٘مُؤْمِنِیْنَ۠ ﴾”وہ یقین کرتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں کی بات پر“ جو سچے اور تصدیق کرنے والے ہیں اور وہ سچے اور جھوٹے کو خوب پہچانتا ہے اگرچہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرتا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان میں سچائی معدوم ہے۔ ﴿ وَرَحْمَةٌلِّلَّذِیْنَاٰمَنُوْامِنْكُمْ﴾”اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے“ کیونکہ وہی آپ کی وجہ سے راہ راست پر گامزن ہوتے اور آپ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہیں۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو انھوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا بلکہ ٹھکرا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت کے گھاٹے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَالَّذِیْنَیُؤْذُوْنَرَسُوْلَاللّٰهِ ﴾”اور وہ لوگ جو (قول و فعل کے ذریعے سے) رسول اللہ کو دکھ دیتے ہیں۔“﴿ لَهُمْعَذَابٌاَلِیْمٌ ﴾”ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ دنیا و آخرت میں۔ اور دنیا میں ان کے لیے دردناک عذاب یہ ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایذا پہنچانے والے کی حتمی سزا قتل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن هؤلاء المنافقين، {الذين يُؤْذونَ النبي}: بالأقوال الرديَّة والعَيْب له ولدينه، {ويقولون هو أذُنٌ}؛ أي: لا يبالون بما يقولون من الأذيَّة للنبيِّ، ويقولون: إذا بلغه عنَّا بعض ذلك؛ جئنا نعتذر إليه، فيقبلُ منَّا؛ لأنه أذُنٌ؛ أي: يقبل كلَّ ما يُقال له، لا يُمَيِّزُ بين صادقٍ وكاذب، وقصدهم ـ قبَّحهم الله ـ فيما بينهم أنهم غير مكترثين بذلك ولا مهتمِّين به؛ لأنه إذا لم يبلُغْه؛ فهذا مطلوبهم، وإن بلغه؛ اكتفَوْا بمجرَّد الاعتذار الباطل، فأساؤوا كلَّ الإساءة من أوجه كثيرةٍ:
أعظمها: أذيَّة نبيِّهم الذي جاء لهدايتهم وإخراجهم من الشَّقاء والهلاك إلى الهدى والسعادة.
ومنها: عدم اهتمامهم أيضاً بذلك، وهو قدر زائدٌ على مجرَّد الأذيَّة.
ومنها: قدحُهم في عقل النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - وعدم إدراكه وتفريقه بين الصادق والكاذب، وهو أكملُ الخلق عقلاً وأتمُّهم إدراكاً وأثقبُهم رأياً وبصيرةً، ولهذا قال تعالى: {قُلْ أذُنُ خيرٍ لكم}؛ أي: يقبلُ مَن قال له خيراً وصدقاً، وأما إعراضُه وعدم تعنيفه لكثير من المنافقين المعتذرين بالأعذار الكذب؛ فلِسَعَة خُلُقه وعدم اهتمامه بشأنهم وامتثاله لأمر الله في قوله: {سيحلِفون بالله لكم إذا انقلبتُم إليهم لِتُعْرِضوا عنهم فأعِرضوا عنُهم إنَّهم رِجْسٌ}، وأما حقيقة ما في قلبه ورأيه؛ فقال عنه: {يؤمِنُ بالله ويؤمِنُ للمؤمنين}: الصادقين المصدِّقين، ويعلم الصادق من الكاذب، وإن كان كثيراً يُعْرِضُ عن الذين يَعْرِفُ كذِبَهم وعدم صدقِهِم، {ورحمةٌ للذين آمنوا منكم}: فإنَّهم به يهتدون وبأخلاقِهِ يقتدون، وأما غير المؤمنين؛ فإنَّهم لم يقبلوا هذه الرحمة، بل ردُّوها فخسروا دنياهم وآخرتهم. {والذين يؤذون رسولَ الله}: بالقول والفعل {لهم عذابٌ أليم}: في الدُّنيا والآخرة، ومن العذاب الأليم أنه يتحتَّم قتلُ مؤذيه وشاتمه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔