تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ:} یعنی ہاں تمھاری بات اس حد تک صحیح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں، مگر یہ الزام صحیح نہیں کہ ہر بات سن کر اس پر اعتبار کر لیتے ہیں۔ اعتبار صرف اسی بات کا کرتے ہیں جو سچی اور حقیقی ہوتی ہے، جو پکے مومن بتاتے ہیں۔ جھوٹی بات کو سن تو لیتے ہیں مگر اس پر صبر اور درگزر سے کام لیتے ہیں، یہ چیز تمھارے حق میں خیر (بہتر) ہے۔ ورنہ آپ جھوٹی بات سن کر اگر اس پر فوراً مؤاخذہ کرنے والے ہوتے تو تم اپنے جھوٹے عذروں کی بنا پر یا تو کب کے قتل کر دیے گئے ہوتے یا مدینہ سے نکال دیے گئے ہوتے۔
➌ { وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ:} یہاں ایمان لانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، چاہے دل سے ایمان دار نہ ہوں، ایسے لوگوں کے لیے رحمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے راز کھولتے نہیں بلکہ انھیں اپنی اصلاح کر لینے کا موقع دیتے ہیں۔ (فتح القدیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بہتر کانوں والا اچھی سننے والا اور صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی باتیں مانتا ہے اور با ایمان لوگوں کی سچائی بھی جانتا ہے وہ مومنوں کے لیے رحمت ہے اور بے ایمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی حجت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے والوں کے لیے دکھ کی مار ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن هؤلاء المنافقين، {الذين يُؤْذونَ النبي}: بالأقوال الرديَّة والعَيْب له ولدينه، {ويقولون هو أذُنٌ}؛ أي: لا يبالون بما يقولون من الأذيَّة للنبيِّ، ويقولون: إذا بلغه عنَّا بعض ذلك؛ جئنا نعتذر إليه، فيقبلُ منَّا؛ لأنه أذُنٌ؛ أي: يقبل كلَّ ما يُقال له، لا يُمَيِّزُ بين صادقٍ وكاذب، وقصدهم ـ قبَّحهم الله ـ فيما بينهم أنهم غير مكترثين بذلك ولا مهتمِّين به؛ لأنه إذا لم يبلُغْه؛ فهذا مطلوبهم، وإن بلغه؛ اكتفَوْا بمجرَّد الاعتذار الباطل، فأساؤوا كلَّ الإساءة من أوجه كثيرةٍ:
أعظمها: أذيَّة نبيِّهم الذي جاء لهدايتهم وإخراجهم من الشَّقاء والهلاك إلى الهدى والسعادة.
ومنها: عدم اهتمامهم أيضاً بذلك، وهو قدر زائدٌ على مجرَّد الأذيَّة.
ومنها: قدحُهم في عقل النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - وعدم إدراكه وتفريقه بين الصادق والكاذب، وهو أكملُ الخلق عقلاً وأتمُّهم إدراكاً وأثقبُهم رأياً وبصيرةً، ولهذا قال تعالى: {قُلْ أذُنُ خيرٍ لكم}؛ أي: يقبلُ مَن قال له خيراً وصدقاً، وأما إعراضُه وعدم تعنيفه لكثير من المنافقين المعتذرين بالأعذار الكذب؛ فلِسَعَة خُلُقه وعدم اهتمامه بشأنهم وامتثاله لأمر الله في قوله: {سيحلِفون بالله لكم إذا انقلبتُم إليهم لِتُعْرِضوا عنهم فأعِرضوا عنُهم إنَّهم رِجْسٌ}، وأما حقيقة ما في قلبه ورأيه؛ فقال عنه: {يؤمِنُ بالله ويؤمِنُ للمؤمنين}: الصادقين المصدِّقين، ويعلم الصادق من الكاذب، وإن كان كثيراً يُعْرِضُ عن الذين يَعْرِفُ كذِبَهم وعدم صدقِهِم، {ورحمةٌ للذين آمنوا منكم}: فإنَّهم به يهتدون وبأخلاقِهِ يقتدون، وأما غير المؤمنين؛ فإنَّهم لم يقبلوا هذه الرحمة، بل ردُّوها فخسروا دنياهم وآخرتهم. {والذين يؤذون رسولَ الله}: بالقول والفعل {لهم عذابٌ أليم}: في الدُّنيا والآخرة، ومن العذاب الأليم أنه يتحتَّم قتلُ مؤذيه وشاتمه.