اور کاش کہ وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے، جلد ہی اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں۔
En
اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)
اگر یہ لوگ اللہ اور رسول کے دیئے ہوئے پر خوش رہتے اور کہہ دیتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم تو اللہ کی ذات سے ہی توقع رکھنے والے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوْاَنَّهُمْرَضُوْامَاۤاٰتٰىهُمُاللّٰهُوَرَسُوْلُهٗ ﴾”اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے“ یعنی انھیں کم یا زیادہ جو کچھ بھی دیا ہے ﴿ وَقَالُوْاحَسْبُنَااللّٰهُ ﴾”اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے“ اور اس نے جو کچھ ہماری قسمت میں رکھا ہے ہم اس پر راضی ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی امید رکھیں ﴿ سَیُؤْتِیْنَااللّٰهُمِنْفَضْلِهٖ٘وَرَسُوْلُهٗۤ١ۙاِنَّـاۤ٘اِلَىاللّٰهِرٰؔغِبُوْنَ ﴾”وہ اللہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول، بے شک ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں “ یعنی اپنی منفعتوں کے حصول اور نقصانات سے بچنے کے لیے نہایت عاجزی سے اس سے دعا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صدقات واجبہ کی تقسیم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقال هنا: {ولو أنَّهم رَضوا ما آتاهم الله ورسولُه}؛ أي: أعطاهم من قليل وكثيرٍ، {وقالوا حسبُنا الله}؛ أي: كافينا الله فنرضى بما قَسَمه لنا، وليؤملوا فضله وإحسانه إليهم بأن يقولوا: {سيؤتينا الله من فضلِهِ ورسولُهُ إنَّا إلى الله راغبون}؛ أي: متضرِّعون في جلب منافعنا ودفع مضارِّنا؛ [لسلموا من النفاق، ولهدوا إلى الإيمانِ والأحوالِ العاليةِ].
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔