تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 54

وَ مَا مَنَعَہُمۡ اَنۡ تُقۡبَلَ مِنۡہُمۡ نَفَقٰتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ بِرَسُوۡلِہٖ وَ لَا یَاۡتُوۡنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَ ہُمۡ کُسَالٰی وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا وَ ہُمۡ کٰرِہُوۡنَ ﴿۵۴﴾
اور انھیں کوئی چیز اس سے مانع نہیں ہوئی کہ ان کی خرچ کی ہوئی چیزیں قبول کی جائیں مگر یہ بات کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نماز کو نہیں آتے مگر اس طرح کہ سست ہوتے ہیں اور خرچ نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ نا خوش ہوتے ہیں۔ En
اور ان کے خرچ (موال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے
En
کوئی سبب ان کے خرچ کی قبولیت کے نہ ہونے کا اس کے سوا نہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور بڑی کاہلی سے ہی نماز کو آتے ہیں اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے فسق اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوْلِهٖ٘ اور نہیں موقوف ہوا ان کے خرچ کا قبول ہونا مگر اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا۔ایمان، تمام اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے اور یہ لوگ ایمان اور عمل صالح سے محروم لوگ ہیں حتیٰ کہ ان کی حالت تو یہ ہے کہ جب یہ لوگ نماز.... جو کہ افضل ترین بدنی عبادت ہے.... پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی یہ حالت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى اور نماز کو آتے ہیں تو سست و کاہل ہوکر۔ یعنی نماز کے لیے بوجھل پن کے ساتھ اٹھتے ہیں چونکہ نماز ان پر گراں گزرتی ہے، اس لیے نماز پڑھنا ان کے لیے بہت ہی مشکل ہے۔ ﴿ وَلَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔ یعنی وہ انشراح صدر اور ثبات نفس کے بغیر خرچ کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی مذمت کی انتہا ہے جو ان جیسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں۔
بندے کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ نماز کے لیے آئے تو نشاط بدن اور نشاط قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے تو انشراح صدر اور ثبات قلب کے ساتھ خرچ کرے اور امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا ہے اور صرف اسی سے ثواب کی امید رکھے اور منافقین کی مشابہت اختیار نہ کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم بيَّن صفة فسقهم وأعمالهم [فقال]: {وما مَنَعَهم أن تُقْبَلَ منهم نفقاتُهم إلَّا أنَّهم كفروا بالله وبرسوله}: والأعمال كلُّها شرطُ قبولها الإيمان؛ فهؤلاء لا إيمان لهم ولا عمل صالح، حتى إنَّ الصلاة التي هي أفضل أعمال البدن إذا قاموا إليها قاموا كسالى؛ قال: {ولا يأتون الصلاة إلَّا وهم كُسالى}؛ أي: متثاقلون لا يكادون يفعلونها من ثقلها عليهم. {ولا يُنفقون إلا وهم كارهونَ}: من غير انشراح صدر وثبات نفس؛ ففي هذا غاية الذمِّ لمن فعل مثل فعلهم، وأنه ينبغي للعبد أن لا يأتي الصلاة إلا وهو نشيطُ البدن والقلب إليها، ولا ينفق إلا وهو منشرح الصدر ثابت القلب يرجو ذُخرها وثوابها من الله وحده، ولا يتشبَّه بالمنافقين.