تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 53

قُلۡ اَنۡفِقُوۡا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا لَّنۡ یُّتَقَبَّلَ مِنۡکُمۡ ؕ اِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۵۳﴾
کہہ دے خوشی سے خرچ کرو، یا نا خوشی سے، تم سے ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔ بے شک تم ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہو۔ En
کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا تم نافرمان لوگ ہو
En
کہہ دیجئے کہ تم خوشی یاناخوشی کسی طرح بھی خرچ کرو قبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا، یقیناً تم فاسق لوگ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے صدقات کے بطلان اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ قُ٘لْ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَنْفِقُوْا طَوْعًا خوشی سے خرچ کرو۔ یعنی بطیب خاطر خرچ کرو ﴿ اَوْ كَرْهًا یا ناخوشی سے یا اپنے اختیار کے بغیر ناگواری کے ساتھ خرچ کرو۔ ﴿ لَّ٘نْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تمھارے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ ﴿اِنَّـكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ اس لیے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے لوگ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى مبيِّناً بطلان نفقات المنافقين وذاكراً السبب في ذلك، {قل} لهم: {أنفقوا طوعاً}: من أنفسكم، {أو كرهاً}: على ذلك بغير اختياركم. {لن يُتَقَبَّل منكم}: شيء من أعمالكم، لأنّكم {كنتم قوماً فاسقين}: خارجين عن طاعة الله.