تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے صدقات کے بطلان اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ قُ٘لْ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَنْفِقُوْاطَوْعًا ﴾”خوشی سے خرچ کرو۔“ یعنی بطیب خاطر خرچ کرو ﴿ اَوْكَرْهًا ﴾”یا ناخوشی سے“ یا اپنے اختیار کے بغیر ناگواری کے ساتھ خرچ کرو۔ ﴿ لَّ٘نْیُّتَقَبَّلَمِنْكُمْ ﴾”تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔“ اللہ تعالیٰ تمھارے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ ﴿اِنَّـكُمْكُنْتُمْقَوْمًافٰسِقِیْنَ ﴾”اس لیے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے لوگ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيِّناً بطلان نفقات المنافقين وذاكراً السبب في ذلك، {قل} لهم: {أنفقوا طوعاً}: من أنفسكم، {أو كرهاً}: على ذلك بغير اختياركم. {لن يُتَقَبَّل منكم}: شيء من أعمالكم، لأنّكم {كنتم قوماً فاسقين}: خارجين عن طاعة الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔