تجھ سے وہ لوگ اجازت نہیں مانگتے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اس سے کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کریں اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔
En
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے
اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ویقین رکھنے والے تو مالی اور جانی جہاد سے رک رہنے کی کبھی بھی تجھ سے اجازت طلب نہیں کریں گے، اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنے جان و مال کے ذریعے سے جہاد ترک کرنے کی اجازت طلب نہیں کرتے۔ بلکہ بغیر کسی عذر کے جہاد ترک کرنے کی اجازت مانگنا تو کجا، بغیر کسی ترغیب کے، ایمان اور بھلائی میں ان کی رغبت انھیں جہاد پر آمادہ رکھتی ہے۔ ﴿وَاللّٰهُعَلِیْمٌۢبِالْمُتَّقِیْنَ۠﴾”اور اللہ متقین کو خوب جانتا ہے“پس وہ انھیں اس بات کی جزا دے گا کہ انھوں نے تقویٰ کو قائم رکھا۔ متقین کے بارے میں یہ اللہ تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے آگاہ فرمایا کہ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ جہاد چھوڑنے کی اجازت نہیں مانگتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر أن المؤمنين بالله واليوم الآخر لا يستأذنون في ترك الجهاد بأموالهم وأنفسهم؛ لأن ما معهم من الرغبة في الخير والإيمان يحملهم على الجهاد من غير أن يحثَّهم عليه حاثٌّ فضلاً عن كونهم يستأذنون في تركِهِ من غير عذرٍ. {والله عليمٌ بالمتَّقين}: فيجازيهم على ما قاموا به من تقواه، ومن علمه بالمتَّقين أنه أخبر أنَّ من علاماتهم أنهم لا يستأذنون في ترك الجهاد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔