تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 43

عَفَا اللّٰہُ عَنۡکَ ۚ لِمَ اَذِنۡتَ لَہُمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ تَعۡلَمَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۴۳﴾
اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی، یہاں تک کہ تیرے لیے وہ لوگ صاف ظاہر ہوجاتے جنھوں نے سچ کہا اور تو جھوٹوں کو جان لیتا۔ En
خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہو جاتے جو جھوٹے ہیں اُن کو اجازت کیوں دی
En
اللہ تجھے معاف فرما دے، تو نے انہیں کیوں اجازت دے دی؟ بغیر اس کے کہ تیرے سامنے سچے لوگ کھل جائیں اور تو جھوٹے لوگوں کو بھی جان لے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ ﴿ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ آپ نے (انھیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔ ﴿ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ حتیٰ کہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں۔ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستحق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لرسوله - صلى الله عليه وسلم -: {عفا الله عنك}؛ أي: سامحك وغفر لك ما أجريت. {لم أذنتَ لهم}: في التخلُّف، {حتَّى يتبيَّن لك الذين صَدَقوا وتعلمَ الكاذبين}: بأن تمتَحِنهم ليتبيَّن لك الصادق من الكاذب، فتعذر من يستحقُّ العذر ممَّن لا يستحقُّ ذلك.