تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ عَفَااللّٰهُعَنْكَ﴾”اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا“ اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ ﴿ لِمَاَذِنْتَلَهُمْ ﴾”آپ نے (انھیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔“﴿ حَتّٰىیَتَبَیَّنَلَكَالَّذِیْنَصَدَقُوْاوَتَعْلَمَالْكٰذِبِیْنَ ﴾”حتیٰ کہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں۔“ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستحق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لرسوله - صلى الله عليه وسلم -: {عفا الله عنك}؛ أي: سامحك وغفر لك ما أجريت. {لم أذنتَ لهم}: في التخلُّف، {حتَّى يتبيَّن لك الذين صَدَقوا وتعلمَ الكاذبين}: بأن تمتَحِنهم ليتبيَّن لك الصادق من الكاذب، فتعذر من يستحقُّ العذر ممَّن لا يستحقُّ ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔