یہ اجازت تو تجھ سے وہی طلب کرتے ہیں جنہیں نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت کے دن کا یقین ہے جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وه اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّمَایَسْتَاْذِنُكَالَّذِیْنَلَایُؤْمِنُوْنَبِاللّٰهِوَالْیَوْمِالْاٰخِرِوَارْتَابَتْقُلُوْبُهُمْ ﴾”آپ سے رخصت تو صرف وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں “ یعنی ان کے اندر ایمان کامل اور یقین صادق نہیں ہے اسی لیے بھلائی میں ان کی رغبت بہت کم ہے۔ قتال کے بارے میں وہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حاجت محسوس کرتے ہیں کہ وہ قتال ترک کرنے کی اجازت طلب کریں۔ ﴿فَهُمْفِیْرَیْبِهِمْیَتَرَدَّدُوْنَ﴾”اور وہ اپنے شک میں متردد رہتے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنما يستأذنك الذين لا يؤمنون بالله واليوم الآخر وارتابتْ قلوبُهم}؛ أي: ليس لهم إيمانٌ تامٌّ ولا يقينٌ صادقٌ؛ فلذلك قلَّت رغبتُهم في الخير، وجبنوا عن القتال، واحتاجوا أن يستأذنوا في ترك القتال. {فهم في رَيْبِهم يتردَّدون}؛ أي: لا يزالون في الشكِّ والحيرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔