اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک بہت سے عالم اور درویش یقینا لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو انھیں دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔
En
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو
اے ایمان والو! اکثر علما اور عابد، لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راه سے روک دیتے ہیں اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے اہل ایمان بندوں کو تحذیر ہے کہ وہ بہت سے احبار اور رہبان، یعنی اہل کتاب کے علماء اور عبادت گزاروں سے بچیں جو باطل یعنی ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور انھیں اللہ کے راستے سے روکتے ہیں کیونکہ ان کے علم، ان کی عبادت اور ان کی پیشوائی کی وجہ سے لوگوں کے مال اور ان کے چندوں میں سے ان کے وظائف مقرر ہیں۔ یہ احبار و رہبان وظائف لیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ ان کا اس طریقے سے وظائف لینا حرام اور ظلم ہے۔ کیونکہ لوگ ان پر اپنا مال اس لیے خرچ کرتے تھے تاکہ وہ راہ راست کی طرف ان کی راہ نمائی کریں اور ناحق طریقے سے لوگوں کا مال ہتھیانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ لوگ ان کو مال دے کر ایسا فتویٰ حاصل کرتے تھے یا ان سے ایسا فیصلہ کرواتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق نہیں ہوتا تھا۔ ان احبار و رہبان کی ان دو حالتوں سے بچنا چاہیے:
(۱) لوگوں کا مال ناحق لینا۔ (۲) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا۔
﴿ وَالَّذِیْنَیَكْنِزُوْنَالذَّهَبَوَالْفِضَّةَ”اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں۔“ یعنی ان کو روک رکھتے ہیں۔ ﴿ وَلَایُنْفِقُوْنَهَافِیْسَبِیْلِاللّٰهِ﴾”اور ان کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔“ یعنی بھلائی کے راستوں میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ جمع کرنا ہے جو حرام ہے، یعنی مال کو روک رکھنا اور اسے وہاں خرچ نہ کرنا جہاں خرچ کرنا فرض ہے، مثلاً: زکاۃ ادا نہ کرنا، بیویوں اور دیگر اقارب کو نفقات واجبہ نہ دینا۔ ﴿ فَبَشِّرْهُمْبِعَذَابٍاَلِیْمٍ﴾”تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیجیے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تحذيرٌ من الله تعالى لعباده المؤمنين عن كثيرٍ من الأحبار والرُّهبان؛ أي: العلماء والعباد الذين يأكلون أموال الناس بالباطل؛ أي: بغير حقٍّ ويصدُّون عن سبيل الله؛ فإنَّهم إذا كانت لهم رواتب من أموال الناس، أو بَذَلَ الناس لهم من أموالهم؛ فإنه لأجل علمهم وعبادتهم ولأجل هُداهم وهدايتهم، وهؤلاء يأخذونها ويصدُّون الناس عن سبيل الله، فيكون أخذهم لها على هذا الوجه سُحتاً وظُلماً؛ فإنَّ الناس ما بذلوا لهم من أموالهم إلا ليدُلُّوهم على الطريق المستقيم، ومن أخذهم لأموال الناس بغير حقٍّ أن يُعطوهم ليفْتوهم، أو يحكموا لهم بغير ما أنزل الله؛ فهؤلاء الأحبار والرُّهبان لِيُحْذَرْ منهم هاتان الحالتان: أخذهم لأموال الناس بغير حقٍّ، وصدُّهم الناس عن سبيل الله.
{والذين يكنِزون الذَّهب والفضَّة}؛ أي: يمسكونهما، {ولا يُنفقونها في سبيل الله}؛ أي: طرق الخير الموصلة إلى الله، وهذا هو الكنز المحرَّم: أن يمسِكَها عن النفقة الواجبة، كأن يمنع منها الزكاة أو النفقات الواجبة للزوجات أو الأقارب أو النفقة في سبيل الله إذا وجبت؛ {فبشِّرْهم بعذابٍ أليم}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔