تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 33

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾
وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔ En
وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں
En
اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک برا مانیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کو، جس کی تکمیل اور حفاظت کا اس نے ذمہ اٹھایا ہے، واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰؔى وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ جو کہ علم نافع کا نام ہے۔ ﴿ وَدِیْنِ الْحَقِّ اور دین حق کے ساتھ جو کہ عمل صالح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دین دے کر مبعوث فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، اس کے افعال اور اس کے احکام و اخبار کے بارے میں باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ہر ایسے حکم پر مشتمل ہے جو بدن، روح اور قلب کے لیے نافع اور ان کی اصلاح کرتا ہے، یعنی دین میں اخلاص، اللہ تعالیٰ سے محبت اور اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہ مکارم اخلاق، محاسن عادات، اعمال صالحہ اور آداب نافعہ کے احکام پر مشتمل ہے اور ان تمام برے اخلاق اور برے اعمال سے روکتا ہے جو ان کی ضد ہیں۔ جو دنیا و آخرت میں قلب و بدن کے لیے ضرر رساں ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ﴿ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّ٘هٖ٘١ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْ٘مُشْرِكُوْنَ تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کرے، اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔ یعنی تاکہ حجت و برہان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے تمام ادیان پر اسے غالب کرے۔ اگرچہ مشرکین کو یہ بات بہت ناگوار گزرتی ہے، وہ اس کے خلاف فساد برپا کرتے ہیں اور اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں مگر سازش کا نقصان سازش کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس نے جو ذمہ اٹھایا ہے وہ اسے ضرور نبھائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم بيَّن تعالى هذا النور الذي قد تكفَّل بإتمامه وحفظه، فقال: {هو الذي أرسلَ رسولَه بالهدى}: الذي هو العلم النافع، {ودينِ الحقِّ} الذي هو العمل الصالح، فكان ما بعث الله به محمداً - صلى الله عليه وسلم - مشتملاً على بيان الحقِّ من الباطل في أسماء الله وأوصافه وأفعاله، وفي أحكامه وأخباره، والأمر بكلِّ مصلحةٍ نافعة للقلوب والأرواح والأبدان؛ من إخلاص الدين لله وحده، ومحبة الله وعبادته، والأمر بمكارم الأخلاق ومحاسن الشيم والأعمال الصالحة والآداب النافعة، والنهي عن كلِّ ما يضادُّ ذلك ويناقضه من الأخلاق والأعمال السيِّئة المضرَّة للقلوب والأبدان والدنيا والآخرة، فأرسله الله بالهدى ودين الحقِّ؛ {لِيُظْهِرَهُ على الدين كلِّه ولو كره المشركون}؛ أي: ليعليه على سائر الأديان؛ بالحجة والبرهان، والسيف والسنان، وإن كره المشركون ذلك، وبَغَوا له الغوائل، ومكروا مكرهم؛ فإنَّ المكر السيئ لا يضرُّ إلا صاحبه؛ فَوَعْدُ اللهِ لا بدَّ أن ينجِزَه وما ضَمِنَهُ لا بدَّ أن يقوم به.