جس دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوئوں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے خزانہ بنایا تھا، سو چکھو جو تم خزانہ بنایا کرتے تھے۔
En
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اس عذاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ﴿ یَّوْمَیُحْمٰؔىعَلَیْهَا﴾”جس دن اس (مال) کو گرم کیا جائے گا۔“ یعنی ان کے مال پر آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فِیْنَارِجَهَنَّمَ﴾”جہنم کی آگ میں۔“ یعنی ہر دینار اور ہر درہم پر علیحدہ علیحدہ آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فَتُكْ٘وٰىبِهَاجِبَاهُهُمْوَجُنُوْبُهُمْوَظُهُوْرُهُمْ﴾”(پھر اس سے قیامت کے روز) ان لوگوں کی پیشانیوں، ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔“ جب بھی یہ دینار و درہم ٹھنڈے پڑ جائیں گے تو ان کو دوبارہ دن بھر تپایا جائے گا اور وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا اور انھیں زجر و توبیخ اور ملامت کرتے ہوئے کہا جائے گا۔ ﴿ هٰؔذَامَاكَنَزْتُمْلِاَنْفُسِكُمْفَذُوْقُوْامَاكُنْتُمْتَكْنِزُوْنَؔ ﴾”یہی وہ مال ہے جو تم سینت سینت کر رکھتے تھے اپنی جانوں کے لیے اب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے کا“ پس اللہ تعالیٰ نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تم نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اس خزانے کے ذریعے سے تم نے اپنی جانوں کو عذاب میں مبتلا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ میں انسان کے اپنے مال کے بارے میں انحراف کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ انحراف دو امور کے ذریعے سے ہوتا ہے۔
(۱) انسان اس کو باطل کے راستے میں خرچ کرتا ہے جس کا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اس سے اس کو صرف نقصان ہی پہنچتا ہے، مثلاً: معاصی اور شہوات میں مال خرچ کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اعانت حاصل نہیں ہوتی۔ اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے مال خرچ کرنا۔
(۲) جہاں مال خرچ کرنا واجب ہو وہاں مال خرچ نہ کرنا اور کسی چیز سے روکنا درحقیقت اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم فسَّره بقوله: {يومَ يُحمى عليها}؛ أي: على أموالهم {في نار جهنَّم}: فيُحمى كل دينار أو درهم على حدته، {فتُكوى بها جباهُهم وجنوبُهم وظهورُهم}: في يوم القيامة، كلما بردت؛ أعيدتْ، في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة، ويقال لهم توبيخاً ولوماً: {هذا ما كنزتُم لأنفسِكم فذوقوا ما كنتُم تكنِزونَ}: فما ظلمكم، ولكنَّكم ظلمتُم أنفسَكم، وعذَّبتموها بهذا الكنز.
وذكر الله في هاتين الآيتين انحراف الإنسان في ماله، وذلك بأحد أمرين: إما أن ينفِقَه في الباطل الذي لا يُجدي عليه نفعاً، بل لا ينالُه منه إلا الضرر المحض، وذلك كإخراج الأموال في المعاصي والشَّهوات التي لا تُعين على طاعة الله، وإخراجها للصدِّ عن سبيل الله. وإما أن يمسِكَ ماله عن إخراجِهِ في الواجبات، والنهي عن الشيء أمرٌ بضدِّه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔