تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 26

ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ عَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶﴾
پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کو سزا دی جنھوں نے کفر کیا اور یہی کافروں کی جزا ہے۔ En
پھر خدا نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی (اور تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اُتارے اور کافروں کو عذاب دیا اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے
En
پھر اللہ نے اپنی طرف کی تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے وه لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے اور کافروں کو پوری سزا دی۔ ان کفار کا یہی بدلہ تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّؔ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ٘ وَعَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی سکینت اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو ہلا دینے والے تباہ کن واقعات اور زلزلوں کے وقت اللہ تعالیٰ دل میں پیدا کرتا ہے جو دل کو سکون عطا کر کے مطمئن کرتی ہے۔ یہ سکون قلب بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے﴿ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا اور ایسے لشکر اتارے جو تمھیں نظر نہیں آتے تھے وہ فرشتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے نازل فرمایا جو مسلمانوں کو ثابت قدم رکھتے تھے اور انھیں فتح و نصرت کی خوشخبری دیتے تھے۔ ﴿ وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اور کافروں کو عذاب دیا اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست، قتل، ان کے اموال و اولاد اور ان کی عورتوں پر مسلمانوں کے قبضہ کے ذریعے سے عذاب کا مزا چکھا دیا۔ ﴿ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الْ٘كٰفِرِیْنَ اور یہ ہے سزا کافروں کی اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم أنزل الله سكينَتَه على رسوله وعلى المؤمنين}: والسكينةُ: ما يجعله الله في القلوب وقتَ القلاقل والزلازل والمُفْظِعات مما يثبِّتها ويسكِّنها ويجعلها مطمئنةً، وهي من نعم الله العظيمة على العباد، {وأنزل جنوداً لم تَرَوْها}: وهم الملائكةُ، أنزلهم الله معونةً للمسلمين يوم حنين يثبِّتونهم ويبشِّرونهم بالنصر، {وعذَّب الذين كفروا}: بالهزيمة والقتل واستيلاء المسلمين على نسائهم وأولادهم وأموالهم. {وذلك جزاء الكافرين}: يعذِّبهم الله في الدنيا، ثم يردُّهم في الآخرة إلى عذاب غليظ.