تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 27

ثُمَّ یَتُوۡبُ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۷﴾
پھر اس کے بعد اللہ توبہ کی توفیق دے گا جسے چاہے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
پھر اس کے بعد بھی جس پر چاہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی توجہ فرمائے گا اللہ ہی بخشش و مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّؔ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہتا ہے، رجوع فرماتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے، ہوازن کے کفار میں سے جن کے ساتھ جنگ ہوئی، اکثر کی توبہ قبول فرما لی اور وہ اسلام قبول کر کے تائب ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بے انتہا مغفرت اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے، وہ توبہ کرنے والے کے بڑے بڑے گناہ بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ اور اطاعت کی توفیق عطا کر کے، ان کے جرائم سے درگزر کر کے اور ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم کرتا ہے۔ پس کسی نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم يتوبُ الله من بعد ذلك على من يشاءُ}: فتاب الله على كثيرٍ ممَّن كانت الوقعة عليهم، وأتوا إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - مسلمين تائبين، فردَّ عليهم نساءهم وأولادهم. {والله غفورٌ رحيمٌ}؛ أي: ذو مغفرةٍ واسعةٍ ورحمةٍ عامةٍ، يعفو عن الذنوب العظيمة للتائبين، ويرحمهم بتوفيقهم للتوبة والطاعة والصفح عن جرائمهم وقَبول توباتهم، فلا ييأسنَّ أحدٌ من رحمته ومغفرته، ولو فعل من الذنوب والإجرام ما فعل.