تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 17

مَا کَانَ لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ بِالۡکُفۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ۚۖ وَ فِی النَّارِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۷﴾
مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ آگ ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے
En
ﻻئق نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں۔ درآں حالیکہ وه خود اپنے کفر کے آپ ہی گواه ہیں، ان کے اعمال غارت واکارت ہیں، اور وه دائمی طور پر جہنمی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مَا كَانَ لِلْ٘مُشْرِكِیْنَ۠ مشرکوں کو زیبا نہیں۔ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں۔ ﴿ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو یعنی عبادات، نماز اور مختلف انواع کی نیکیوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں۔ ﴿شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْ٘كُ٘فْرِ جبکہ وہ اپنے آپ پر کفر (اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں۔ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی مفقود ہے اور ان کے اعمال باطل ہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَفِی النَّارِ هُمْ خٰؔلِدُوْنَ یہی لوگ ہیں، ان کے اعمال برباد ہو گئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ما كان}؛ أي: ما ينبغي، ولا يليق {للمشركين أن يَعْمُروا مساجد الله}: بالعبادة والصلاة وغيرها من أنواع الطاعات، والحالُ أنهم شاهدون ومقرُّون على أنفسهم بالكفر بشهادة حالهم وفِطرهم وعِلْمِ كثيرٍ منهم أنهم على الكفر والباطل؛ فإذا كانوا {شاهدين على أنفسهم بالكفر} وعدم الإيمان الذي هو شرط لقَبول الأعمال؛ فكيف يزعُمون أنهم عمارُ مساجد الله؛ والأصل منهم مفقودٌ والأعمال منهم باطلةٌ؟! ولهذا قال: {أولئك حَبِطَتْ أعمالهم}؛ أي: بطلت وضلت. {وفي النار هم خالدون}.