یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیے جائو گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور نہ اللہ کے اور نہ اس کے رسول کے اور نہ ایمان والوں کے سوا کسی کو راز دار بنایا اور اللہ اس سے پورا باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
En
کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حاﻻنکہ اب تک اللہ نے تم میں سے انہیں ممتاز نہیں کیا جو مجاہد ہیں اور جنہوں نے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اللہ خوب خبردار ہے جو تم کر رہے ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ان سے فرماتا ہے ﴿اَمْحَسِبْتُمْاَنْتُتْرَؔكُوْا ﴾”کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوٹ جاؤ گے“ یعنی تمھیں کسی آزمائش اور امتحان میں مبتلا کیے بغیر اور تمھیں کوئی ایسا حکم دیے بغیر چھوڑ دیا جائے گا جس سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ﴿ وَلَمَّایَعْلَمِاللّٰهُالَّذِیْنَجٰؔهَدُوْامِنْكُمْ ﴾”حالانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا ہے“ یعنی ایسا علم جو اس چیز کو خارج میں ظاہر کر دے جو قوت میں موجود ہے تاکہ اس پر ثواب و عقاب مرتب ہو۔ پس ان لوگوں کو جان لے جو اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ﴿ وَلَمْیَتَّؔخِذُوْامِنْدُوْنِاللّٰهِوَلَارَسُوْلِهٖوَلَاالْمُؤْمِنِیْنَوَلِیْجَةً﴾”اور نہیں بنایا انھوں نے اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا، کوئی دوست“ یعنی انھوں نے کفار کو اپنا دوست نہیں بنایا۔ بلکہ وہ اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد اس لیے مشروع فرمایا تاکہ اس سے یہ عظیم مقصد حاصل ہو سکے اور وہ عظیم مقصد یہ ہے کہ سچے لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو صرف دین کے لیے وقف کر رکھا ہے، ان جھوٹے لوگوں سے ممیز ہو جائیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور مومنین کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا دلی دوست اور مددگار بناتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُخَبِیْرٌۢبِمَاتَعْمَلُوْنَ ﴾”اور اللہ تمھارے سب کاموں سے باخبر ہے۔“ یعنی تم سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح آگاہ ہے پس وہ تمھاری اس طرح آزمائش کرتا ہے جس سے تمھاری پوری حقیقت ظاہر ہوجائے۔ اور وہ تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لعباده المؤمنين بعدما أمرهم بالجهاد: {أم حسبتُم أن تُتْرَكوا}: من دون ابتلاء وامتحان وأمر بما يَبينُ به الصادقُ والكاذب، {ولما يَعْلَمِ اللهُ الذين جاهدوا منكم}؛ أي: علماً يظهر مما في القوة إلى الخارج؛ ليترتَّب عليه الثواب والعقاب، فيعلم الذين يجاهدون في سبيله لإعلاء كلمته، {ولم يتَّخذوا من دون الله ولا رسولِهِ ولا المؤمنينَ وَليجةً}؛ أي: وليًّا من الكافرين، بل يتَّخذون الله ورسوله والمؤمنين أولياء. فشرع الله الجهادَ ليحصُلَ به هذا المقصود الأعظم، وهو أن يتميَّزَ الصادقون الذين لا يتحيَّزون إلاَّ لدين الله من الكاذبين الذين يزعمون الإيمان وهم يتَّخذون الولائج والأولياء من دون الله ولا رسوله ولا المؤمنين. {والله خبيرٌ بما تعملون}؛ أي: يعلم ما يصير منكم ويصدر، فيبتليكم بما يظهر به حقيقة ما أنتم عليه، ويجازيكم على أعمالكم خيرها وشرِّها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔