ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 16

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَکُوۡا وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ لَمۡ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لَا رَسُوۡلِہٖ وَ لَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۶﴾
یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیے جائو گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور نہ اللہ کے اور نہ اس کے رسول کے اور نہ ایمان والوں کے سوا کسی کو راز دار بنایا اور اللہ اس سے پورا باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ En
کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
En
کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حاﻻنکہ اب تک اللہ نے تم میں سے انہیں ممتاز نہیں کیا جو مجاہد ہیں اور جنہوں نے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اللہ خوب خبردار ہے جو تم کر رہے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت16) ➊ {اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا …: وَلِيْجَةً وَلَجَ يَلِجُ } ({وَعَدَ}) سے ہے جس کا معنی داخل ہونا ہے، یعنی دل کے اندر داخل ہو جانے والا، قلبی دوست اور محبوب، جس کے سامنے آدمی اپنے دلی راز بھی رکھ دے۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ کفار کو کسی صورت دلی دوست نہ بناؤ، فرمایا: «لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۱۸] اپنے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ، وہ تمھیں کسی طرح نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے۔ احکام جہاد کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جہاد کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے کھرے اور کھوٹے اہل ایمان کو الگ الگ کرنا چاہتا ہے اور ان لوگوں کو خالص کرنا چاہتا ہے جن میں جہاد اور صرف مسلمانوں سے دلی دوستی اور راز داری کا وصف پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ چیز لڑائی ہی سے نکھر کر سامنے آتی ہے۔ منافقین بھی بعض اوقات جہاد میں شریک ہو جاتے ہیں، مگر کفار سے دلی دوستی اور راز داری کا تعلق ختم نہیں کرتے، نہ ہی وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے لڑتے ہیں، نیز دیکھیے سورۂ عنکبوت (۱تا ۳) اور سورۂ آل عمران (۱۷۹)۔
➋ {وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ:} اللہ تعالیٰ تمھارے تمام اعمال سے پوری طرح با خبر ہے، وہ ظاہر اعمال کے ساتھ دل کا حال بھی جانتا ہے، اس لیے اپنے اعمال درست کرو اور ان کے لیے نیت خالص اللہ کی رضا رکھو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 یعنی بغیر امتحان اور آزمائش کے۔ 16۔ 2 گویا جہاد کے ذریعے امتحان لیا گیا۔ 16۔ 3 وَ لِیْجَۃ، ُ گہرے اور دلی دوست کو کہتے ہیں مسلمانوں کو چونکہ اللہ اور رسول کے دشمنوں سے محبت کرنے اور دوستانہ تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا تھا لہذا یہ بھی آزمائش کا ایک ذریعہ تھا، جس سے مخلص مومنوں کو دوسروں سے ممتاز کیا گیا۔ 16۔ 4 مطلب یہ ہے کہ اللہ کو پہلے ہی ہر چیز کا علم ہے۔ لیکن جہاد کی حکمت یہ ہے کہ اس سے مخلص اور غیر مخلص، فرماں بردار اور نافرمان بندے نمایاں ہو کر سامنے آجاتے، جنہیں ہر شخص دیکھ اور پہچان لیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہیں [14] یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ جبکہ اللہ نے ابھی تک یہ معلوم ہی نہیں کیا کہ تم میں سے کن لوگوں نے جہاد کیا اور اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو اپنا دلی دوست نہیں بنایا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے
[14] کافروں کو دخیل یا ہمراز بنانے کے مہلک نتائج:۔
یہ خطاب ان مسلمانوں کے لیے ہے جو نئے نئے اسلام لائے تھے۔ ورنہ ابتدائی مہاجرین و انصار تو اس معیار پر، جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے، پہلے ہی کئی بار پورے اتر چکے تھے اور اپنے اس امتحان میں کامیاب ہو چکے تھے اس معیار میں بالخصوص دو باتیں بیان فرمائیں ایک اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد، دوسرے صرف اللہ اس کے رسول اور مومنوں سے ہی دلی اور راز داری کی دوستی۔ یعنی کسی مسلمان کے لیے یہ کسی صورت میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم کو اپنے معاملات میں دخیل اور اپنا ہم راز بنائے۔ غیر مسلم کو اسلامی حکومت کے کسی ذمہ دار منصب پر فائز کرنا، یا کسی غیر مسلم کو کوئی جنگی راز وغیرہ بتلا دینا ایسے خطرناک کام ہیں جن کے نتائج ایک مسلم حکومت یا معاشرہ کے لیے نہایت مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا کسی غیر مسلم سے ایسی دوستی گانٹھنے سے ہی سختی سے منع کر دیا گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ان سے فرماتا ہے ﴿اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَؔكُوْا کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوٹ جاؤ گے یعنی تمھیں کسی آزمائش اور امتحان میں مبتلا کیے بغیر اور تمھیں کوئی ایسا حکم دیے بغیر چھوڑ دیا جائے گا جس سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ﴿ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰؔهَدُوْا مِنْكُمْ حالانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا ہے یعنی ایسا علم جو اس چیز کو خارج میں ظاہر کر دے جو قوت میں موجود ہے تاکہ اس پر ثواب و عقاب مرتب ہو۔ پس ان لوگوں کو جان لے جو اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ﴿ وَلَمْ یَتَّؔخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً اور نہیں بنایا انھوں نے اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا، کوئی دوست یعنی انھوں نے کفار کو اپنا دوست نہیں بنایا۔ بلکہ وہ اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد اس لیے مشروع فرمایا تاکہ اس سے یہ عظیم مقصد حاصل ہو سکے اور وہ عظیم مقصد یہ ہے کہ سچے لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو صرف دین کے لیے وقف کر رکھا ہے، ان جھوٹے لوگوں سے ممیز ہو جائیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور مومنین کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا دلی دوست اور مددگار بناتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ اور اللہ تمھارے سب کاموں سے باخبر ہے۔ یعنی تم سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح آگاہ ہے پس وہ تمھاری اس طرح آزمائش کرتا ہے جس سے تمھاری پوری حقیقت ظاہر ہوجائے۔ اور وہ تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لعباده المؤمنين بعدما أمرهم بالجهاد: {أم حسبتُم أن تُتْرَكوا}: من دون ابتلاء وامتحان وأمر بما يَبينُ به الصادقُ والكاذب، {ولما يَعْلَمِ اللهُ الذين جاهدوا منكم}؛ أي: علماً يظهر مما في القوة إلى الخارج؛ ليترتَّب عليه الثواب والعقاب، فيعلم الذين يجاهدون في سبيله لإعلاء كلمته، {ولم يتَّخذوا من دون الله ولا رسولِهِ ولا المؤمنينَ وَليجةً}؛ أي: وليًّا من الكافرين، بل يتَّخذون الله ورسوله والمؤمنين أولياء. فشرع الله الجهادَ ليحصُلَ به هذا المقصود الأعظم، وهو أن يتميَّزَ الصادقون الذين لا يتحيَّزون إلاَّ لدين الله من الكاذبين الذين يزعمون الإيمان وهم يتَّخذون الولائج والأولياء من دون الله ولا رسوله ولا المؤمنين. {والله خبيرٌ بما تعملون}؛ أي: يعلم ما يصير منكم ويصدر، فيبتليكم بما يظهر به حقيقة ما أنتم عليه، ويجازيكم على أعمالكم خيرها وشرِّها.