تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 13

اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ وَ ہَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَ ہُمۡ بَدَءُوۡکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ اَتَخۡشَوۡنَہُمۡ ۚ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡہُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی؟کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ En
بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو
En
تم ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے کیوں تیار نہیں ہوتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور پیغمبر کو جلا وطن کرنے کی فکر میں ہیں اور خود ہی اول بار انہوں نے تم سے چھیڑ کی ہے، کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ ہی زیاده مستحق ہے کہ تم اس کا ڈر رکھو بشرطیکہ تم ایمان والے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّـكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِـاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنھوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے۔ نیز انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کر دیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے امکان بھر کوشش کی۔ ﴿ وَهُمْ بَدَءُوْؔكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے جبکہ انھوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمھارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے.... درآں حالیکہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا.... بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنو بکر کی مدد کی۔ بنو خزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔
﴿ اَتَخْشَوْنَهُمْ۠ کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو؟ ﴿ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمھیں سخت تاکید کی ہے۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم حثَّ على قتالهم وهيَّج المؤمنين بذكر الأوصاف التي صدرت من هؤلاء الأعداء، والتي هم موصوفون بها، المقتضية لقتالهم، فقال: {ألا تقاتلون قوماً نَكَثوا أيْمانهم وهَمُّوا بإخراج الرسول}: الذي يجب احترامه وتوقيره وتعظيمه، وهمُّوا أن يجلوه ويخرجوه من وطنه، وسعوا في ذلك ما أمكنهم، {وهم بدؤوكم أول مرة}: حيث نقضوا العهود، وأعانوا عليكم وذلك حيث أعانت قريش وهم معاهدون بني بكرٍ حلفاءهم على خزاعة حلفاء رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، وقاتلوا معهم كما هو مذكورٌ مبسوطٌ في السيرة. {أتخشَوْنَهم}: في ترك قتالهم؟ {فالله أحقُّ أن تَخْشَوْه إن كنتم مؤمنين}: فالله أمركم بقتالهم، وأكَّد ذلك عليكم غاية التأكيد؛ فإن كنتم مؤمنين؛ فامتثلوا لأمر الله، ولا تخشوهم فتتركوا أمر الله.