تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں یہ سب اہل ایمان کے لیے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ قَاتِلُوْهُمْیُعَذِّبْهُمُاللّٰهُبِاَیْدِیْكُمْ ﴾”ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمھارے ہاتھوں سے“ یعنی قتل کے ذریعے سے ﴿ وَیُخْزِهِمْ ﴾”اور رسوا کرے گا ان کو“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمھاری مدد کرتا ہے۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے ﴿ وَیَنْصُرْؔكُمْعَلَیْهِمْ ﴾”اور تم کو ان پر غالب کر دے گا“ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔﴿ وَیَشْفِصُدُوْرَقَوْمٍمُّؤْمِنِیْنَ﴾” اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے “
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمر بقتالهم، وذكر ما يترتب على قتالهم من الفوائد وكل هذا حثٌّ وإنهاضٌ للمؤمنين على قتالهم فقال: {قاتلوهم يعذِّبْهم اللهُ بأيديكم}: بالقتل، {ويُخْزِهِم}: إذا نصركم الله عليهم، وهم الأعداء الذين يطلب خزيهم ويحرص عليه، {ويَنصُرْكم عليهم}: هذا وعدٌ من الله وبشارةٌ قد أنجزها، {ويَشْفِ صدور قوم مؤمنين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔