تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 12

وَ اِنۡ نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَہۡدِہِمۡ وَ طَعَنُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ فَقَاتِلُوۡۤا اَئِمَّۃَ الۡکُفۡرِ ۙ اِنَّہُمۡ لَاۤ اَیۡمَانَ لَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ یَنۡتَہُوۡنَ ﴿۱۲﴾
اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمھارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشوائوں سے جنگ کرو۔ بے شک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔ En
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں
En
اگر یہ لوگ عہدوپیمان کے بعد بھی اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم بھی ان سرداران کفر سے بھڑ جاؤ۔ ان کی قسمیں کوئی چیز نہیں، ممکن ہے کہ اس طرح وه بھی باز آجائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو... اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنْ نَّـكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں۔ یعنی انھوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمھارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمھیں نقصان پہنچایا ﴿ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ اور تمھارے دین میں طعن کرنے لگیں۔ یعنی تمھارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشنیع کو شامل ہے۔ ﴿ فَقَاتِلُوْۤا اَىِٕمَّةَ الْ٘كُ٘فْرِ تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمن کے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیروکار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے درپے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔
﴿ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ شاید کہ وہ یعنی ان کے ساتھ تمھارے لڑائی کرنے میں ﴿ یَنْتَهُوْنَ باز آجائیں۔ یعنی تمھارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى بعدما ذكر أنَّ المعاهدين من المشركين إن استقاموا على عهدهم فاستقيموا لهم على الوفاء: {وإن نَكَثوا أيمانَهم من بعد عهِدهم}؛ أي: نقضوها وحلُّوها؛ فقاتلوكم أو أعانوا على قتالكم أو نقصوكم، {وطعنوا في دينكم}؛ أي: عابوه وسخروا منه، ويدخُل في هذا جميع أنواع الطعن الموجَّهة إلى الدين أو إلى القرآن، {فقاتِلوا أئمَّة الكفر}؛ أي: القادة فيه، الرؤساء الطاعنين في دين الرحمن، الناصرين لدين الشيطان. وخصَّهم بالذكر لعظم جنايتهم ولأنَّ غيرهم تَبَعٌ لهم، وليدلَّ على أن مَن طَعَنَ في الدين، وتصدَّى للردِّ عليه فإنه من أئمة الكفر. {إنهم لا أيْمانَ لهم}؛ أي: لا عهود ولا مواثيق يلازمون على الوفاء بها، بل لا يزالون خائنين ناكثين للعهد لا يوثق منهم. {لعلَّهم}: في قتالكم إياهم {ينتهونَ}: عن الطعن في دينكم، وربما دخلوا فيه.