تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 128

لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
بلاشبہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں
En
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی اُمی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں، وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بے انتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لیے کوشش کرنے والے ہیں۔ ﴿ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ تمھاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمھیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ حریص ہیں تمھاری بھلائی پر پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے لیے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمھیں بھلائی تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہیں، ایمان تک تمھاری راہ نمائی کے خواہش مند ہیں۔ آپ شر کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور شر سے تمھیں نفرت دلانے کے لیے پوری کوشش صرف کرتے ہیں ﴿ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے مہربان ہیں۔ یعنی اہل ایمان کے لیے انتہائی رافت و رحمت کے حامل ہیں بلکہ وہ مومنوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحیم ہیں۔ بنابریں آپ کا حق تمام مخلوق پر فائق اور مقدم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا، آپ کی تعظیم کرنا، آپ کی عزت و توقیر کرنا تمام امت پر فرض ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يمتنُّ تعالى على عباده المؤمنين بما بعث فيهم النبيَّ الأميَّ، الذي من أنفسهم، يعرفون حاله، ويتمكَّنون من الأخذ عنه، ولا يأنفون عن الانقياد له، وهو - صلى الله عليه وسلم - في غاية النُّصح لهم والسعي في مصالحهم. {عزيزٌ عليه ما عَنِتُّم}؛ أي: يَشُقُّ عليه الأمر الذي يَشُقُّ عليكم ويُعْنِتُكم. {حريصٌ عليكم}: فيحبُّ لكم الخير، ويسعى جهدَه في إيصاله إليكم، ويحرص على هدايتكم إلى الإيمان، ويكره لكم الشرَّ، ويسعى جهده في تنفيركم عنه. {بالمؤمنين رءوفٌ رحيمٌ}؛ أي: شديد الرأفة والرحمة بهم، أرحم بهم من والديهم، ولهذا كان حقُّه مقدماً على سائر حقوق الخلق، وواجب على الأمة الإيمان به وتعظيمه وتوقيره وتعزيره.