اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان کا بعض بعض کی طرف دیکھتا ہے کہ کیا تمھیں کوئی دیکھ رہا ہے ؟ پھر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔
En
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگتے ہیں (اور پوچھتے ہیں کہ) بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر پھر جاتے ہیں۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں کہ تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں پھر چل دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا دل پھیر دیا ہے اس وجہ سے کہ وه بے سمجھ لوگ ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی وہ منافقین جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کا بھید کھول دے ﴿ وَاِذَامَاۤاُنْزِلَتْسُوْرَةٌ ﴾”جب ان پر کوئی سورت نازل کی جاتی ہے“ تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے مضامین پر عمل کریں ﴿ نَّ٘ظَ٘رَبَعْضُهُمْاِلٰىبَعْضٍ﴾”تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔“ یعنی اس پر عمل نہ کرنے کا ارادہ اور عزم کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں، وہ مناسب وقت کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان کی نظروں سے چھپے رہیں اور کہتے ہیں ﴿ هَلْیَرٰؔىكُمْمِّنْاَحَدٍثُمَّانْ٘صَرَفُوْا﴾”کیا دیکھتا ہے تم کو کوئی مسلمان، پھر کھسک جاتے ہیں “ یعنی کھسک کر نکل جاتے ہیں اور منہ موڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ تب اللہ ان کے عمل کی جنس ہی سے انھیں جزا دیتا ہے۔ پس جیسے انھوں نے عمل سے منہ پھیر لیا ﴿صَرَفَاللّٰهُقُ٘لُوْبَهُمْ ﴾”اللہ نے ان کے دلوں کو (حق سے) پھیر دیا“ یعنی روک دیا اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ﴿ بِاَنَّهُمْقَوْمٌلَّایَفْقَهُوْنَ ﴾”کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔“ یعنی وہ ایسی سمجھ نہیں رکھتے جو ان کو فائدہ دے کیونکہ اگر وہ سمجھ رکھتے ہوتے تو جب بھی کوئی سورت نازل ہوتی، وہ اس پر ایمان لا کر اس کے احکام کی تعمیل کرتے۔ اس کا مقصد جہاد وغیرہ شرائع ایمان سے ان کی شدت نفور کو بیان کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿ فَاِذَاۤاُنْزِلَتْسُوْرَةٌمُّحْكَمَةٌوَّذُكِرَفِیْهَاالْقِتَالُ١ۙرَاَیْتَالَّذِیْنَفِیْقُلُوْبِهِمْمَّرَضٌیَّنْظُ٘رُوْنَاِلَیْكَنَظَرَالْ٘مَغْشِیِّعَلَیْهِمِنَالْمَوْتِ﴾ (محمد: 47؍20)”جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے، آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس شخص کی طرح دیکھنے لگتے ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني: أن المنافقين الذين يحذرون أن تنزل عليهم سورةٌ تنبِّئهم بما في قلوبهم. إذا نَزَلَتْ سورةٌ ليؤمنوا بها ويعملوا بمضمونها، {نَظَرَ بعضُهم إلى بعضٍ}: جازمين على ترك العمل بها، ينتظرون الفرصة في الاختفاء عن أعين المؤمنين، ويقولون: {هل يراكُم مِن أحدٍ ثم انصرفوا}: متسلِّلين وانقلبوا معرضين، فجازاهم الله بعقوبةٍ من جنس عملهم؛ فكما انصرفوا عن العمل؛ {صَرَفَ الله قلوبَهم}؛ أي: صدَّها عن الحقِّ وخذلها، {بأنَّهم قومٌ لا يفقهون}: فقهاً ينفعهم؛ فإنَّهم لو فقهوا؛ لكانوا إذا نزلت سورةٌ آمنوا بها وانقادوا لأمرها. والمقصودُ من هذا بيانُ شدَّة نفورهم عن الجهادِ وغيره من شرائع الإيمان؛ كما قال تعالى عنهم: {فإذا أنزِلَتْ سورةٌ محكَمَةٌ وذُكِرَ فيها القتالُ رأيت الذين في قلوبهم مرضٌ ينظرون إليك نَظَرَ المغشيِّ عليه من الموتِ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔