پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔
En
پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَاِنْ﴾”پس اگر“ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ ﴿ تَوَلَّوْا﴾”پھرجائیں۔“ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں۔ ﴿ فَقُلْحَسْبِیَاللّٰهُ﴾”اور کہہ دیں! کہ (تمام امور میں) میرے لیے اللہ کافی ہے۔“﴿ لَاۤاِلٰهَاِلَّاهُوَ﴾”اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“﴿ عَلَیْهِتَوَكَّلْتُ ﴾”میں نے اسی پر توکل کیا۔“ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لیے، میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَهُوَرَبُّالْعَرْشِالْعَظِیْمِ ﴾”اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإن} آمنوا؛ فذلك حظُّهم وتوفيقهم، وإن {تَوَلَّوْا} عن الإيمان والعمل؛ فامضِ على سبيلك، ولا تزل في دعوتك، وقل: {حسبيَ الله}؛ أي: الله كافِيَّ في جميع ما أهمني. {لا إله إلَّا هو}؛ أي: لا معبود بحقٍّ سواه. {عليه توكلتُ}؛ أي: اعتمدت ووثقت به في جلب ما ينفع ودفع ما يضرُّ. {وهو ربُّ العرش العظيم}: الذي هو أعظم المخلوقات، وإذا كان ربَّ العرش العظيم الذي وسع المخلوقات؛ كان ربًّا لما دونه من باب أولى وأحرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔