تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 124

وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ اَیُّکُمۡ زَادَتۡہُ ہٰذِہٖۤ اِیۡمَانًا ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾
اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اس نے تم میں سے کس کو ایمان میں زیادہ کیا؟ پس جو لوگ ایمان لائے، سو ان کو تو اس نے ایمان میں زیادہ کر دیا اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ En
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزاء کرتے اور) پوچھتے کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان تو زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں
En
اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیاده کیا ہے، سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیاده کیا ہے اور وه خوش ہورہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نزول قرآن کے وقت منافقین اور اہل ایمان کا جو حال ہوتا ہے اور اس وقت ان کے درمیان جو تفاوت ہوتا ہے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے جس کے اندر اوامر و نواہی نازل کیے گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے بارے میں خبر دی گئی ہو، امور غائبہ سے آگاہ کیا گیا ہو اور جہاد کی ترغیب دی گئی ہو۔ ﴿فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰؔذِهٖۤ اِیْمَانًا تو ان میں سے بعض کہتے ہیں، تم میں سے کس کا ایمان اس سورت نے زیادہ کیا؟ یعنی دونوں گروہوں میں سے اسے استفہام حاصل ہے جسے اس سورت پر ایمان حاصل ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں گروہوں کا حال واقع بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا پس جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، ان کا ایمان اس سورت نے زیادہ کر دیا اس سورت کے علم، اس کے فہم، اس پر اعتقاد، اس پر عمل، بھلائی کے کام میں رغبت اور برائی کے کام سے رکنے کے ذریعے سے ان لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جو اہل ایمان ہیں۔ ﴿وَّهُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ۠ اور وہ خوش خبری حاصل کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جو اپنی آیات سے نوازا ہے اور ان کا فہم حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشی ہے اس پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کو آیات الٰہی پر انشراح صدر، اطمینان قلب اور سرعت اطاعت حاصل ہے کیونکہ یہ آیات ان کو اس امر کی ترغیب دیتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى مُبيِّناً حال المنافقين وحال المؤمنين عند نزول القرآن وتفاوُتَ ما بين الفريقين، فقال: {وإذا ما أنزِلَتْ سورةٌ}: فيها الأمر والنهي والخبر عن نفسه الكريمة وعن الأمور الغائبة والحثُّ على الجهاد. {فمنهم من يقولُ أيُّكم زادتْه هذه إيماناً}؛ أي: حصل الاستفهام لمن حصل له الإيمانُ بها من الطائفتين. قال تعالى مبيِّناً الحال الواقعة: {فأما الذين آمنوا فزادَتْهم إيماناً}: بالعلم بها وفهمها واعتقادِها والعمل بها والرغبةِ في فعل الخير والانكفافِ عن فعل الشرِّ. {وهم يستبشرونَ}؛ أي: يبشِّر بعضُهم بعضاً بما منَّ الله عليهم من آياته والتوفيق لفهمها والعمل بها، وهذا دالٌّ على انشراح صدورهم لآيات الله، وطمأنينة قلوبهم، وسرعة انقيادهم لما تحثُّهم عليه.