تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 125

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَتۡہُمۡ رِجۡسًا اِلٰی رِجۡسِہِمۡ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾
اور رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں کوئی بیماری ہے تو اس نے ان کو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی میں زیادہ کر دیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ کافر تھے۔ En
اور جن کے دلوں میں مرض ہے، ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر
En
اور جن کے دلوں میں روگ ہے اس سورت نے ان میں ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی اور وه حالت کفر ہی میں مر گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اور لیکن جن کے دلوں میں روگ ہے یعنی شک اور نفاق ہے ﴿فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ پس ان کو اس سورت نے بڑھا دیا گندگی پرگندگی میں یعنی ان کے مرض کے ساتھ مرض اور ان کے شک کے ساتھ مزید شک کا اضافہ ہوتا گیا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا۔ ان کے خلاف عناد رکھا اور ان سے روگردانی کی تھی۔ بنابریں ان کا مرض بڑھ گیا تو اس مرض نے ان کو ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ ﴿ وَ اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے یہاں تک کہ ﴿ مَاتُوْا وَهُمْ كٰفِرُوْنَ وہ مریں گے بھی تو کافر کے کافر۔ یہ ان کے لیے سزا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا، اس کے رسول کی نافرمانی کی اس لیے اس کی پاداش میں اس دن تک کے لیے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا، جس روز وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأما الذين في قلوبهم مرضٌ}؛ أي: شكٌّ ونفاق، {فزادتهم رِجْساً إلى رِجْسِهم}؛ أي: مرضاً إلى مرضهم، وشَكًّا إلى شكِّهم؛ من حيث إنهم كفروا بها وعاندوها وأعرضوا عنها، فازداد لذلك مرضُهم، وترامى بهم إلى الهلاك والطبع على قلوبهم حتى {ماتوا وهم كافرون}، وهذا عقوبةٌ لهم لأنَّهم كفروا بآيات الله، وعصوا رسوله، فأعقَبَهم نفاقاً في قلوبهم إلى يوم يَلْقَوْنَه.