اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمھارے قریب ہیں اور لازم ہے کہ وہ تم میں کچھ سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔
En
اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جنگی معاملات کی تدبیر میں اہل ایمان کی راہ نمائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کفار سے ابتدا کی جائے جو سب سے قریب ہیں ان کے ساتھ رویہ سخت رکھا جائے اور جنگ میں ان کا نہایت سختی، بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے ﴿وَاعْلَمُوْۤااَنَّاللّٰهَمَعَالْمُتَّقِیْنَ ﴾”اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔“ یعنی تمھیں یہ علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد تقویٰ کے مطابق نازل ہوتی ہے، اس لیے تقویٰ کا التزام کرو! اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے دشمن کے خلاف تمھیں نصرت سے نوازے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ قَاتِلُواالَّذِیْنَیَلُوْنَكُمْمِّنَالْكُفَّارِ ﴾”قریب کے کافروں سے قتال کرو۔“ عام ہے، تاہم جب مصلحت اس بات کا تقاضا کرے کہ ان کافروں کے ساتھ لڑائی کی جائے جو قریب نہیں ہیں تو اس وقت ایسا کرنا ضروری ہو گا اور یہ خاص حکم اس عموم سے مستثنیٰ ہو گا کیونکہ مصالح کی اقسام تو بے شمار ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا أيضاً إرشادٌ آخر: بعدما أرشدهم إلى التدبير فيمن يباشر القتال؛ أرشدهم إلى أنهم يبدؤون بالأقرب فالأقرب من الكفار والغلظة عليهم والشدة في القتال والشجاعة والثبات. {واعلموا أنَّ الله مع المتَّقين}؛ أي: وليكنْ لديكم علمٌ أن المعونة من الله تنزِلُ بحسب التقوى؛ فلازموا على تقوى الله؛ يُعِنْكُم وينصُرْكم على عدوِّكم. وهذا العموم في قوله: {قاتلوا الذين يلونكم من الكفار}: مخصوصٌ بما إذا كانت المصلحةُ في قتال غير الذين يلوننا، وأنواع المصالح كثيرة جدًّا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔