تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 11

فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخۡوَانُکُمۡ فِی الدِّیۡنِ ؕ وَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱﴾
پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں، اور ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔ En
اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
En
اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة دیتے رہیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ہم تو جاننے والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔
اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنْ تَابُوْا اگر وہ توبہ کرلیں۔ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰ٘وةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ اور نماز قائم کریں، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا تو فرمایا: ﴿ وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں ﴿ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ جاننے والے لوگوں کے واسطے پس سیاق کلام انھی کی طرف ہے، انھی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے اور انھی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
اے اللہ! اے رب العالمین! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَذُبُّوْا عن دينكم وانصُروه واتَّخذوا مَن عاداه عدوًّا ومَن نَصَره لكم وليًّا واجعلوا الحكم يدور معه وجوداً وعدماً، لا تجعلوا الولاية والعداوة طَبْعِيَّةً تميلون بهما حيثما مال الهوى وتتَّبعون فيها النفس الأمَّارة بالسوء، ولهذا [إنْ] {تابوا}: عن شركهم ورجعوا إلى الإيمان، {وأقاموا الصَّلاة وآتوا الزكاة فإخوانكم في الدين}: وتناسَوْا تلك العداوة إذ كانوا مشركين؛ لتكونوا عباد الله المخلصين، وبهذا يكون العبد عبداً حقيقةً. لمَّا بيَّن من أحكامه العظيمة ما بيَّن، ووضَّح منها ما وضَّح أحكاماً وحكَماً وحُكْماً وحِكمةً؛ قال: {ونفصِّل الآيات}؛ أي: نوضحها ونميزها {لقوم يعلمون}: فإليهم سياق الكلام، وبهم تُعرف الآيات والأحكام، وبهم عُرف دين الإسلام وشرائع الدين. اللهمَّ اجعلنا من القوم الذين يعلمون ويعملون بما يعلمون برحمتك وجودك وكرمك وإحسانك يا رب العالمين!