اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
En
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالسّٰبِقُوْنَالْاَوَّلُوْنَ ﴾”جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے“ اس سے مراد اس امت کے وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، ہجرت، جہاد اور اقامت دین میں سبقت کی۔ ﴿ مِنَالْمُهٰؔجِرِیْنَ ﴾”ہجرت کرنے والوں میں سے۔“ یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں اور مال و متاع سے بے دخل کر کے نکال دیا گیا، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی درحقیقت سچے لوگ ہیں۔ ﴿ وَالْاَنْصَارِ ﴾”اور انصار میں سے۔“ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے مہاجرین سے پہلے، ہجرت کے گھر (یعنی مدینہ منورہ) اور ایمان میں جگہ پکڑی، جو کوئی ہجرت کر کے ان کے پاس جاتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو عطا کیا گیا ہے وہ اس کے متعلق دل میں کوئی خلش نہیں پاتے اور مہاجرین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔
﴿ وَالَّذِیْنَاتَّبَعُوْهُمْبِـاِحْسَانٍ ﴾”اور جنھوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ“ جنھوں نے عقائد، اقوال اور اعمال میں ان مہاجرین و انصار کی پیروی کی، یہی وہ لوگ ہیں جو مذمت سے بچے ہوئے ہیں، جنھیں مدح کا بلند ترین درجہ اور اللہ کی طرف سے کرامت کا افضل ترین مقام حاصل ہے۔ ﴿ رَّضِیَاللّٰهُعَنْهُمْ ﴾”اللہ ان سے راضی ہو گیا“ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جنت کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ ﴿ وَرَضُوْاعَنْهُوَاَعَدَّلَهُمْجَنّٰتٍتَجْرِیْتَحْتَهَاالْاَنْ٘هٰرُ ﴾”اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔“ بہنے والی وہ نہریں جو جنت، جنت کی خوبصورت پھلواریوں اور جنت کے عمدہ باغات کو سیراب کرتی ہیں۔ ﴿ خٰؔلِدِیْنَفِیْهَاۤاَبَدًا﴾”ہمیشہ اس میں رہیں گے ابد تک۔“ یعنی وہ اس جنت سے کسی اور جگہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا کیونکہ وہ جب بھی کسی چیز کی تمنا کریں گے اس کو حاصل کر لیں گے اور جب بھی کسی چیز کا ارادہ کریں گے اس کو موجود پائیں گے۔
﴿ ذٰلِكَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ﴾”یہی ہے بڑی کامیابی۔“ جہاں انھیں ان کے نفس کی ہر محبوب چیز، روح کی لذت، دلوں کی نعمت اور بدن کی شہوت حاصل ہوگی اور بچنے کے قابل ہر چیز کو ان سے دور رکھا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
السابقون هم الذين سبقوا هذه الأمة وبَدَروها إلى الإيمان والهجرة والجهاد وإقامة دين الله، {من المهاجرين}: {الذين أُخْرِجوا من ديارهم وأموالهم يبتغونَ فضلاً من الله ورضواناً وينصُرون الله ورسولَه أولئك هم الصادقون}. {و} من {الأنصار}: {الذين تبوؤا الدار والإيمان من قبلِهِم يحبُّون من هاجر إليهم ولا يجدون في صدورِهم حاجةً مما أوتوا ويؤثِرون على أنفسِهم ولو كان بهم خَصاصَةٌ}. {والذين اتَّبَعوهم بإحسانٍ}: بالاعتقادات والأقوال والأعمال؛ فهؤلاء هم الذين سَلِموا من الذَّمِّ وحصل لهم نهاية المدح وأفضلُ الكرامات من الله. {رضي الله عنهم}: ورضاه تعالى أكبرُ من نعيم الجنة، {ورَضوا عنه وأعدَّ لهم جناتٍ تجري تحتَها الأنهار}: الجارية التي تُساق إلى سقي الجنان والحدائق الزاهية الزاهرة والرياض الناضرة. {خالدين فيها أبداً}: لا يبغون عنها حِوَلاً ولا يطلبون منها بدلاً؛ لأنَّهم مهما تمنَّوه أدركوه، ومهما أرادوه وجدوه. {ذلك الفوز العظيم}: الذي حصل لهم فيه كلُّ محبوبٍ للنفوس ولذَّة للأرواح ونعيم للقلوب وشهوة للأبدان، واندفع عنهم كلُّ محذور.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔