تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 101

وَ مِمَّنۡ حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕۛ وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ ۟ۛؔ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟ لَا تَعۡلَمُہُمۡ ؕ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾ۚ
اور ان لوگوں میں سے جو تمھارے ارد گرد بدویوں میں سے ہیں، کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑ گئے ہیں، تو انھیں نہیں جانتا، ہم ہی انھیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انھیں دوبار عذاب دیں گے، پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ En
اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے
En
اور کچھ تمہارے گردوپیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ ان کو نہیں جانتے، ان کو ہم جانتے ہیں ہم ان کو دہری سزا دیں گے، پھر وه بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَمِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ اور تمھارے گرد رہنے والے گنواروں میں سے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والوں میں سے یعنی مدینہ میں بھی منافقین موجود ہیں ﴿ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر یعنی نفاق کے عادی ہیں اور نفاق میں ان کی سرکشی بڑھتی جا رہی ہے ﴿ لَا تَعْلَمُهُمْ آپ ان کو نہیں جانتے۔ یعنی آپ ان کے اعیان کو نہیں جانتے کہ آپ ان کو سزا دے سکیں یا ان کے نفاق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کر سکیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ہم ان کو جانتے ہیں، ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے۔ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ تثنیہ کا لفظ اپنے حقیقی باب میں استعمال ہوا ہو، تب اس سے مراد دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب ہے۔ پس دنیا میں اہل ایمان کی فتح و نصرت سے ان کو جو غم و ہموم اور سخت ناگواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ دنیا کا عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم ان کو نہایت سخت عذاب دیں گے، ان کو دگنا عذاب دیں گے اور بار بار عذاب دیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {وممَّن حولَكم من الأعراب منافقون ومن أهل المدينة}: أيضاً منافقون، {مَرَدُوا على النِّفاق}؛ أي: تمرَّنوا عليه [واستمرّوا] وازدادوا فيه طغياناً، {لا تعلَمُهم}: بأعيانهم فتعاقبهم أو تعاملهم بمقتضى نفاقهم؛ لما لله في ذلك من الحكمة الباهرة. {نحن نعلمُهم سنعذِّبهم مرتينِ}: يُحتمل أن التثنية على بابها، وأنَّ عذابَهم عذابٌ في الدنيا وعذابٌ في الآخرة؛ ففي الدُّنيا ما ينالهم من الهمِّ والغمِّ والكراهة لما يصيب المؤمنين من الفتح والنصر، وفي الآخرة عذابُ النار وبئس القرار، ويُحتمل أنَّ المراد سنغلِّظُ عليهم العذاب، ونضاعفه عليهم، ونكرِّره.