تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ آلوسی صاحبِ روح المعانی نے فرمایا: ”بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ «{ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ }» سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے شرف کی بنا پر بعد والے تمام لوگوں پر سبقت حاصل ہے، جو پھر کسی کو نصیب نہ ہو سکی اور «{ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ }» (اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے) سے قیامت تک آنے والے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف قرآن اور سنت رسول پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہے۔“ کیونکہ دوسرے کسی بھی فرقے کے لوگ اپنے امام کی تقلید کا دعویٰ تو کر سکتے ہیں، مگر تمام صحابہ کی اچھے طریقے اور نیکی سے پیروی کا دعویٰ نہیں کر سکتے، کیونکہ صحابہ کا عمل صرف قرآن و سنت پر تھا۔ اس وقت نہ فرقے تھے نہ وہ لوگ جن کے نام پر فرقے بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر بھی بالکل درست ہے، البتہ اس آیت سے صرف اصطلاحی تابعین مراد لینا کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کی حالت میں صحابہ کی زیارت کی ہو ہر گز درست نہیں، کیونکہ احسان کے ساتھ مہاجرین و انصار کے پیچھے چلنے والے صرف وہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سبھی مسلمان ہیں جن کے اخلاص اور قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ ہاں اصطلاحی تابعین بدرجۂ اولی ان میں شامل ہیں۔
➌ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جو اسلام میں بھی اول ہیں اور ہجرت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں، پھر بالترتیب دوسرے خلفاء رضی اللہ عنھم کے درجے ہیں، ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ جن میں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبد الرحمن بن عوف اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنھم شامل ہیں، پھر بدری اور عقبہ والے صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے، پھر جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور ہجرت و نصرت کی۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب پر اہل السنۃ والجماعہ متفق ہیں۔
➍ {رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ:} چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور جنت میں داخلے کی خو ش خبری کی جو وجہ بیان ہوئی ہے، یعنی ہجرت و نصرت وہ دائمی ہے۔ کوئی شخص ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا۔ اس لیے اس پر ملنے والی بشارت بھی دائمی اور ہمیشہ کے لیے ہے، لہٰذا ان صحابہ میں سے (العیاذ باللہ) کسی کے مرتد ہونے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی رضا اور جنت کی خوش خبری دے ہی نہیں سکتا جس کے متعلق اسے علم ہو کہ اس نے مرتد ہو جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ حالات کا مکمل علم ہے آئندہ آنے والی ہر بات کا بھی اسی طرح مکمل علم ہے۔ وہ کفر پر مرنے والوں کو جنت اور رضا کی بشارت کیسے دے سکتا ہے؟ پھر کتنے بدبخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرات کے خلاف عموماً اور ان میں سے افضل ترین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین ہستیوں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات امہات المومنین رضی اللہ عنھن جو ہجرت و نصرت کا شرف بھی رکھتی ہیں، ان کے خلاف زبان درازی، سب و شتم، تہمت تراشی اور تبرا بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
محمد بن کعب رحمہ اللہ القرظی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ یہ آیت پڑھ رہاتھا «وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [9-التوبة:100] تو عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور پوچھا کہ کس نے تمھیں یہ پڑھایا ہے؟ تو کہنے لگا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے! تو کہنے لگے اچھا چلو میں تمھیں ابی کے پاس لے چلتا ہوں تا کہ پوچھ لوں۔ اور جب حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو پوچھا، کیا تم نے اس آیت کو اس طرح پڑھنا بتایا ہے؟ تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں فرمایا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے؟ کہا ہاں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم نے وہ اعلٰی و ارفع درجہ پا لیا ہے کہ ہمارے بعد کوئی دوسرا یہ منزلت حاصل نہیں کر سکتا۔ تو ابی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اس آیت کی تصدیق سورۃ جمعہ کے اول میں بھی ہے۔
یعنی «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [62-الجمعة: 3] اور سورۃ الحشرمیں بھی «وَالَّذِيْنَ جَاءُوْ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [59- الحشر: 10] اور سورۃ الانفال میں بھی ہے۔ «وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَـٰئِكَ مِنكُمْ» [8- الانفال: 75]الخ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی روایت کی ہے اور کہا کہ حسن بصری «وَالْاَنٰصَارِ» کے لفظ پڑھتے ہیں۔ اور «وَّالسّٰبِقُوْنَ اَلْاَوَّلُوْنٗ» پر عطف قرار دیتے تھے۔ گویا عبارت یوں ہوئی کہ مہاجرین میں سے سابقین اولین اور انصار اور ان کے تابعین سے اللہ راضی ہے۔
افسوس کیا کم بختی ہے ان لوگوں کی جو ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں یہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو سبُّ و شتم کرتے ہیں،
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انکی عقلیں اوندھی ہو گئی ہیں ان کے قلوب الٹ گئے ہیں، اگر وہ کمبخت ان لوگوں کو گالیاں دیں جن سے اللہ راضی ہو چکا ہے اور قرآن میں اپنی رضا مندی کی انھیں سند دے دی تو پھر کسی منہ سے وہ قرآن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں اب قرآن پر ایمان ہی کہاں رہا؟ اہل سنت ان لوگوں کی قدر کرتے ہیں اور ان سے راضی ہیں جن سے اللہ راضی ہے اور یہ اہل سنت برا بھلا کہتے ہیں تو ان کو جنہیں خعد اللہ نے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہا ہے اور ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں جن کو اللہ دوست رکھتا ہے اور ان کے مخالف ہیں کہ اللہ خود جن کا مخالف ہے یہ اتباعِ ہدایت کرتے ہیں بدعتی نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہیں اور مذہب و اعتقادات میں نئے نئے شاخسانے نہیں نکالتے۔ فلاح پانے والے اور مومن بندوں کی جماعت یہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
السابقون هم الذين سبقوا هذه الأمة وبَدَروها إلى الإيمان والهجرة والجهاد وإقامة دين الله، {من المهاجرين}: {الذين أُخْرِجوا من ديارهم وأموالهم يبتغونَ فضلاً من الله ورضواناً وينصُرون الله ورسولَه أولئك هم الصادقون}. {و} من {الأنصار}: {الذين تبوؤا الدار والإيمان من قبلِهِم يحبُّون من هاجر إليهم ولا يجدون في صدورِهم حاجةً مما أوتوا ويؤثِرون على أنفسِهم ولو كان بهم خَصاصَةٌ}. {والذين اتَّبَعوهم بإحسانٍ}: بالاعتقادات والأقوال والأعمال؛ فهؤلاء هم الذين سَلِموا من الذَّمِّ وحصل لهم نهاية المدح وأفضلُ الكرامات من الله. {رضي الله عنهم}: ورضاه تعالى أكبرُ من نعيم الجنة، {ورَضوا عنه وأعدَّ لهم جناتٍ تجري تحتَها الأنهار}: الجارية التي تُساق إلى سقي الجنان والحدائق الزاهية الزاهرة والرياض الناضرة. {خالدين فيها أبداً}: لا يبغون عنها حِوَلاً ولا يطلبون منها بدلاً؛ لأنَّهم مهما تمنَّوه أدركوه، ومهما أرادوه وجدوه. {ذلك الفوز العظيم}: الذي حصل لهم فيه كلُّ محبوبٍ للنفوس ولذَّة للأرواح ونعيم للقلوب وشهوة للأبدان، واندفع عنهم كلُّ محذور.