تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الغاشية (88) — آیت 21

فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾
پس تو نصیحت کر، تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔ En
تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو
En
پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَذَكِّ٘رْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّ٘رٌ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے: ﴿وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّ٘رْ بِالْ٘قُ٘رْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ (ق:50؍45) اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فذكِّرْ إنَّما أنت مذكِّرٌ}؛ أي: ذكِّر الناس وعِظْهم وأنذِرْهم وبشِّرْهم؛ فإنَّك مبعوثٌ لدعوة الخلق إلى الله وتذكيرهم، ولم تُبْعَثْ عليهم مسيطراً عليهم مسلطاً موكلاً بأعمالهم؛ فإذا قمت بما عليك؛ فلا عليك بعد ذلك لومٌ؛ كقوله تعالى: {وما أنت عليهم بجبارٍ. فَذكِّرْ بالقرآنِ مَن يخافُ وعيدِ}.