ترجمہ و تفسیر — سورۃ الغاشية (88) — آیت 21

فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾
پس تو نصیحت کر، تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔ En
تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو
En
پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22،21) {فَذَكِّرْ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌ …:} آپ کا کام نصیحت کرنا ہے، زبردستی مسلمان کرنا نہیں، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۵۶] دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21۔ 1 یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ پس آپ نصیحت کرتے رہیے۔ آپ بس نصیحت کرنے والے ہی ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَذَكِّ٘رْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّ٘رٌ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے: ﴿وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّ٘رْ بِالْ٘قُ٘رْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ (ق:50؍45) اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فذكِّرْ إنَّما أنت مذكِّرٌ}؛ أي: ذكِّر الناس وعِظْهم وأنذِرْهم وبشِّرْهم؛ فإنَّك مبعوثٌ لدعوة الخلق إلى الله وتذكيرهم، ولم تُبْعَثْ عليهم مسيطراً عليهم مسلطاً موكلاً بأعمالهم؛ فإذا قمت بما عليك؛ فلا عليك بعد ذلك لومٌ؛ كقوله تعالى: {وما أنت عليهم بجبارٍ. فَذكِّرْ بالقرآنِ مَن يخافُ وعيدِ}.