تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 7

فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ﴿۷﴾
پس لیکن وہ شخص جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا ۔ En
تو جس کا نامہٴ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا
En
تو (اس وقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابً٘ا یَّسِیْرًا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّیَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ٘ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسْرُوْرًا خوش ہوکر۔ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا ذكر تفصيل الجزاء، فقال: {فأمَّا مَنْ أوتي كتابه بيمينِهِ}: وهم أهل السعادة، {فسوف يحاسَبُ حساباً يسيراً}: وهو العرض اليسير على الله، فيقرِّره الله بذنوبه، حتى إذا ظنَّ العبدُ أنَّه قد هلك؛ قال الله تعالى: إنِّي قد سترتُها عليك في الدُّنيا وأنا أستُرها لك اليوم ، {وينقلبُ إلى أهله}: في الجنة {مسروراً}: لأنَّه قد نجا من العذاب وفاز بالثواب.