تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 6

یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾
اے انسان! بے شک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے ۔ En
اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا
En
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يا أيُّها الإنسانُ إنَّك كادحٌ إلى ربِّكَ كدحاً فملاقيه}؛ أي: إنك ساعٍ إلى الله وعاملٌ بأوامره ونواهيه ومتقرِّبٌ إليه إمَّا بالخير وإمَّا بالشرِّ، ثم تلاقي الله يوم القيامةِ؛ فلا تعدم منه جزاءً بالفضل أو العدل؛ بالفضل إن كنت سعيداً، وبالعقوبة إن كنت شقيًّا.