تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التكوير (81) — آیت 27

اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾
یہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔ En
یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے
En
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے نصیحت نامہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْ٘عٰلَمِیْنَ یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنْ هو إلاَّ ذكرٌ للعالمين}: يتذكَّرون به ربَّهم وماله من صفات الكمال وما ينزَّه عنه من النقائص والرذائل والأمثال، ويتذكَّرون به الأوامر والنواهي وحكمها؛ ويتذكَّرون به الأحكام القدريَّة والشرعيَّة والجزائيَّة، وبالجملة يتذكَّرون به مصالح الدارين، وينالون بالعمل به السعادتين.