تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التكوير (81) — آیت 23

وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾
اور بلاشبہ یقینا اس نے اس ( جبریل) کو ( آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔ En
بےشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے
En
اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد رآه بالأفُقِ المُبين}؛ أي: رأى محمدٌ - صلى الله عليه وسلم - جبريل عليه السلام بالأفُقِ البيِّن الذي هو أعلى ما يلوح للبصر.