تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التكوير (81) — آیت 22

وَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۲﴾
اور تمھارا ساتھی ہرگز کوئی دیوانہ نہیں ہے۔ En
اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمدﷺ) دیوانے نہیں ہیں
En
اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَمَا صَاحِبُكُمْ اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿ بِمَجْنُوْنٍ مجنون جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر فضل الرسول الملكيِّ الذي جاء بالقرآن؛ ذكر فضل الرسول البشريِّ الذي نزل عليه القرآنُ، ودعا إليه الناس، فقال: {وما صاحِبُكم}: وهو محمدٌ - صلى الله عليه وسلم - {بمجنونٍ}؛ كما يقوله أعداؤه المكذِّبون برسالته، المتقوِّلون عليه [من] الأقوال التي يريدون أن يطفِئوا بها ما جاء به ، بل هو أكملُ الناس عقلاً، وأجزلُهم رأياً، وأصدقُهم لهجةً.