تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التكوير (81) — آیت 24

وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾
اور وہ غیب کی باتوں پر ہرگز بخل کرنے والا نہیں۔ En
اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں
En
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔
جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما هو على الغيب بضَنينٍ}؛ أي: وما هو على ما أوحاه الله إليه بِمُتَّهَم يزيد فيه أو ينقص أو يكتم بعضه، بل هو - صلى الله عليه وسلم - أمينُ أهل السماء وأهل الأرض، الذي بلَّغ رسالات ربِّه البلاغَ المبين، فلم يَشُحَّ بشيءٍ منه عن غنيٍّ ولا فقيرٍ ولا رئيسٍ ولا مرؤوسٍ ولا ذكرٍ ولا أنثى ولا حضريٍّ ولا بدويٍّ، ولذلك بعثه الله في أمَّةٍ أميَّةٍ جاهلةٍ جهلاء، فلم يمت - صلى الله عليه وسلم - حتى كانوا علماء ربَّانيِّين وأحباراً متفرِّسين، إليهم الغاية في العلوم، وإليهم المنتهى في استخراج الدقائق والمفهوم ، وهم الأساتذة، وغيرهم قصاراه أن يكون من تلاميذهم.