تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 72

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۷۲﴾
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی، یہ لوگ! ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمھارے لیے ان کی دوستی میں سے کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے، مگر اس قوم کے خلاف کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو اور اللہ اسے جو تم کر رہے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو پناه دی اور مدد کی، یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اور جو ایمان تو ﻻئے ہیں لیکن ہجرت نہیں کی تمہارے لئے ان کی کچھ بھی رفاقت نہیں جب تک کہ وه ہجرت نہ کریں۔ ہاں اگر وه تم سے دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے، سوائے ان لوگوں کے کہ تم میں اور ان میں عہد وپیمان ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ خوب دیکھتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ موالات اور محبت کا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے درمیان.....جو ایمان لائے، جنھوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا .... اور انصار کے درمیان قائم کیا، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو پناہ دی، اپنے گھر، مال اور خود ان کی ذات کے بارے میں ان کی مدد کی۔ یہ سب لوگ، اپنے کامل ایمان اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل اتصال کی بنا پر ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی، تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں، جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں کیونکہ انھوں نے تم سے علیحدہ ہو کر تمھاری ولایت و دوستی کا رشتہ ایسے وقت میں منقطع کر لیا جبکہ تمھیں مردوں کی مدد کی سخت ضرورت تھی اور چونکہ انھوں نے ہجرت نہیں کی اس لیے مومنین کی طرف سے ان کی کوئی دوستی نہیں۔ البتہ ﴿ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْؔكُمْ فِی الدِّیْنِ اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں۔ یعنی اگر کوئی قوم ان کے خلاف لڑائی کرے اور یہ اس لڑائی میں تم سے مدد مانگیں ﴿فَعَلَیْكُمُ النَّ٘صْرُتو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔ یعنی تم پر ان کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمن کے خلاف لڑنا واجب ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے لڑتے ہیں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب نہیں۔
﴿ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭؔ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَهُمْ مِّؔیْثَاقٌ مگر ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہوچکا ہے (مدد نہیں کرنی چاہیے)۔ یعنی جن کے ساتھ تمھارا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے اور وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی اگر ان کے ساتھ لڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کے خلاف ان مومنوں کی مدد نہ کرو کیونکہ تمھارے اور ان کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ اور اللہ تمھارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی وہ تمھارے احوال اور رویے کو جانتا ہے، اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جو تمھارے احوال کے لائق ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا عقدُ موالاة ومحبَّة عقدها الله بين المهاجرين الذين آمنوا وهاجروا في سبيل الله وتركوا أوطانهم لله لأجل الجهاد في سبيل الله وبين الأنصار الذين آوَوْا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه وأعانوهم في ديارهم وأموالهم وأنفسهم؛ فهؤلاء بعضُهم أولياءُ بعض؛ لكمال إيمانهم وتمام اتِّصال بعضهم ببعض. {والذين آمنوا ولم يهاجروا ما لكم من ولايتهم من شيء حتى يهاجروا} فإنَّهم قطعوا ولايتكم بانفصالهم عنكم في وقت شدَّة الحاجة إلى الرجال، فلمَّا لم يهاجروا؛ لم يكن لهم من ولاية المؤمنين شيءٌ، لكنَّهم {إن استنصروكم في الدين}؛ أي: لأجل قتال من قاتلهم؛ [لأجل دينهم] {فعليكُمُ النصرُ}: والقتال معهم، وأما من قاتلوهم لغير ذلك من المقاصد؛ فليس عليكم نصرهم. وقوله تعالى: {إلَّا على قوم بينكم وبينَهم ميثاقٌ}؛ أي: عهدٌ بترك القتال؛ فإنهم إذا أراد المؤمنون المتميِّزون الذين لم يهاجروا قتالهم؛ فلا تعينوهم عليهم؛ لأجل ما بينَكم وبينَهم من الميثاق. {والله بما تعملونَ بصيرٌ}: يعلمُ ما أنتم عليه من الأحوال، فيشرعُ لكم من الأحكام ما يَليقُ بكم.