اور اگر وہ تجھ سے خیانت کا ارادہ کریں تو بے شک وہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کر چکے ہیں، تو اس نے ان پر قابو دے دیا اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والاہے۔
En
اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنْیُّرِیْدُوْاخِیَانَتَكَ ﴾”اور اگر یہ لوگ آپ سے دغا کرنا چاہتے ہیں۔“ یعنی اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کر کے خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ فَقَدْخَانُوااللّٰهَمِنْقَبْلُفَاَمْكَنَمِنْهُمْ ﴾”تو وہ خیانت کر چکے ہیں اللہ کی اس سے پہلے، پس اس نے ان کو پکڑوا دیا“ پس وہ آپ کے ساتھ خیانت کرنے سے بچیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر اختیار رکھتا ہے اور وہ اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ ﴿وَاللّٰهُعَلِیْمٌحَكِیْمٌ ﴾ اور یعنی اللہ تعالیٰ علیم ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے، وہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے نہایت خوبصورت اور جلیل القدر احکام وضع فرمائے اور کفار کے شر اور ان کی خیانت کے ارادے کے مقابلے میں تمھاری کفایت کا ذمہ لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن يريدوا خيانَتَكَ}: في السعي لحربك ومنابذتك، {فقد خانوا الله من قبلُ فأمْكَنَ منهم}: فليحذَروا خيانتك؛ فإنه تعالى قادرٌ عليهم، وهم تحت قبضته. {والله عليمٌ حكيمٌ}؛ أي: عليم بكل شيء، حكيم يضع الأشياء مواضعها، ومن علمه وحكمته أن شَرَعَ لكم هذه الأحكام الجليلة الجميلة، وقد تكفَّل بكفايتكم شأنَ الأسرى وشرَّهم إن أرادوا خيانةً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔