تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا …:} ان سے مراد اولین مہاجر ہیں جو سب سے افضل ہیں۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا:} یہ انصار ہیں، ان کی فضیلت بھی بے شمار ہے، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں۔ عبد اللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک شخص ہوتا۔“ [بخاری، المغازی، باب غزوۃ الطائف…: ۴۳۳۰]
➍ { اُولٰٓىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ: ” اَوْلِيَآءُ “} سے مراد دوست، حمایتی اور مدد گار بھی ہو سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی۔ دوسرے مفہوم کے مطابق اشارہ ہو گا اس مؤاخات (بھائی چارے) کی طرف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مہاجرین و انصار کے درمیان قائم کیا، جس کی بنا پر جاہلیت کے رواج کے مطابق آپس میں بھائی بننے والے ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے، یہاں تک کہ میراث کی آیت: «وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ» [الأنفال: ۷۵] نازل ہوئی تو یہ طریقہ منسوخ ہو گیا۔
➎ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يُهَاجِرُوْا:} یہ اس عہد کے مسلمانوں کی تیسری قسم ہے۔ دار الاسلام قائم ہونے کے باوجود اس کی طرف ہجرت نہ کرنے اور کفار کی غلامی میں رہنے پر قناعت کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ایمان کچا ہے، یہ لوگ جہاد میں حصہ لے ہی نہیں سکتے، اس لیے ان کے ساتھ پہلے دو فریقوں جیسی دوستی اور حمایت کسی طرح بھی نہیں ہو سکتی، جب تک ہجرت نہ کریں۔
➏ {وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ …:} مثلاً کافر ان پر ظلم کر رہے ہوں اور وہ تم سے مدد مانگیں تو تم پر انھیں ظالموں کے پنجے سے چھڑانا فرض ہے، فرمایا: «وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا» [النساء: ۷۵] ”اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔“
➐ { اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ:} یعنی اگر تمھارا کفار سے کوئی معاہدہ ہو کہ آپس میں ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے تو تم معاہدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان کی مدد نہیں کر سکتے، بلکہ ان مسلمانوں سے یہی کہا جائے گا کہ ”دارالکفر“ کو چھوڑ کر ”دارالاسلام“ میں چلے آئیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اب یہ تو ظاہر ہے کہ اس وقت دار الاسلام صرف مدینہ تھا۔ جہاں مکہ اور دیگر اطراف سے مسلمان ہجرت کر کے پہنچ رہے تھے اور مدینہ کے سوا باقی سارا عرب دار الحرب یا دار الکفر تھا۔ جبکہ مسلمان مکہ اور دیگر اطراف میں بھی موجود تھے۔ اس پس منظر میں اس سورۃ انفال کی آخری چار آیات میں دار الاسلام کے مسلمانوں کے آپس میں تعلقات بیرونی مسلمانوں سے تعلقات اور حکومتوں کے باہمی معاہدات سے احکام دیئے گئے ہیں جو پیش خدمت ہیں۔
2۔ اور جو مسلمان ہجرت کر کے مدینہ نہیں پہنچے۔ وہ نہ تمہارے ولی یا وارث ہیں اور نہ تم ان کے ولی یا وارث ہو سکتے ہوتا آنکہ وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس نہ پہنچ جائیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دار الحرب میں رہنے والا مسلمان دار الاسلام میں رہنے والے مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا اور اس کے برعکس بھی۔ جیسا کہ ایک مسلمان کافر کا یا کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔
3۔ دار الاسلام میں رہنے والے مسلمانوں یا ان کی حکومت پر دار الحرب میں رہنے والے مسلمانوں سے متعلق کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اس حکم کے مطابق ان تمام بین الاقوامی تنازعات کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ جہاں کوئی حکومت کسی دوسری حکومت میں بسنے والی اقلیت کی ذمہ داریاں اپنے سر لیتی ہے۔
4۔ اگر دار الحرب میں بسنے والے مسلمانوں پر زیادتی اور ظلم روا رکھا جا رہا ہو اور وہ دار الاسلام کے مسلمانوں یا ان کی حکومت سے اس کے مقابلہ میں مدد طلب کریں تو دار الاسلام کے مسلمانوں پر ان کی مدد کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
5۔ اور اگر مدد طلب کرنے والے مسلمان کسی ایسے ملک میں بستے ہوں۔ جس کا اسلامی حکومت سے معاہدہ امن و آشتی طے پا چکا ہو تو اس صورت میں مسلمانوں کی مدد کرنے کے بجائے بین الاقوامی معاہدہ کا پاس رکھنا زیادہ ضروری ہے اور مسلمانوں کی مدد مانگنے کے باوجود ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
6۔ البتہ ایسے مسلمان جو اس معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت کی حدود سے باہر رہتے ہیں۔ وہ اس اضافی پابندی کے ذمہ دار نہیں۔ وہ چاہیں تو ایسے مظلوم مسلمانوں کی مدد کر سکتے ہیں اور جس طرح چاہیں کر سکتے ہیں۔ معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت ان کے بارے میں مسؤل نہیں ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسرے انصار، مدنی جنہوں نے ان مہاجروں کو اپنے ہاں ٹھہرایا اپنے مالوں میں ان کا حصہ لگا دیا ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمنوں سے لڑائی کی یہ سب آپس میں ایک ہی ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں بھائی چارہ کرا دیا ایک انصاری ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنا دیا۔ یہ بھائی بندی قرابت داری سے بھی مقدم تھی ایک دوسرے کا وارث بنتا تھا آخر میں یہ منسوخ ہو گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مہاجرین اور انصار سب آپس میں ایک دوسرے کے والی وارث ہیں اور فتح مکہ کے بعد کے آزاد کردہ مسلمان لوگ قریشی اور آزاد شدہ ثقیف آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں قیامت تک۔} ۱؎ [مسند احمد:363/4:صحیح] اور روایت میں ہے { دنیا اور آخرت میں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:5033:ضعیف]
مہاجر و انصار کی تعریف میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں فرمان ہے۔ «وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [9- التوبہ: 100] ’ پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے احسان کے تابعدار وہ ہیں جن سے اللہ خوش ہے اور وہ اس سے خوش ہیں اس نے ان کے لیے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے درختوں کے نیچے چشمے بہ رہے ہیں۔‘
اور آیت میں ہے «لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ» ۱؎ [9-التوبة: 117] ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان مہاجرین و انصار پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کی توجہ فرمائی جنہوں نے سختی کے وقت بھی آپ کی اتباع نہ چھوڑی۔‘
مسند بزار میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ہجرت اور نصرت میں اختیار دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کو پسند فرمایا۔۱؎ [مسند بزار:2818:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ترک وطن نہیں کیا تھاانہیں ان کی رفاقت حاصل نہیں۔‘ یہ مومنوں کی تیسری قسم ہے جو اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے ان کا مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ تھا نہ خمس میں ہاں کسی لڑائی میں شرکت کریں تو اور بات ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا عقدُ موالاة ومحبَّة عقدها الله بين المهاجرين الذين آمنوا وهاجروا في سبيل الله وتركوا أوطانهم لله لأجل الجهاد في سبيل الله وبين الأنصار الذين آوَوْا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه وأعانوهم في ديارهم وأموالهم وأنفسهم؛ فهؤلاء بعضُهم أولياءُ بعض؛ لكمال إيمانهم وتمام اتِّصال بعضهم ببعض. {والذين آمنوا ولم يهاجروا ما لكم من ولايتهم من شيء حتى يهاجروا} فإنَّهم قطعوا ولايتكم بانفصالهم عنكم في وقت شدَّة الحاجة إلى الرجال، فلمَّا لم يهاجروا؛ لم يكن لهم من ولاية المؤمنين شيءٌ، لكنَّهم {إن استنصروكم في الدين}؛ أي: لأجل قتال من قاتلهم؛ [لأجل دينهم] {فعليكُمُ النصرُ}: والقتال معهم، وأما من قاتلوهم لغير ذلك من المقاصد؛ فليس عليكم نصرهم. وقوله تعالى: {إلَّا على قوم بينكم وبينَهم ميثاقٌ}؛ أي: عهدٌ بترك القتال؛ فإنهم إذا أراد المؤمنون المتميِّزون الذين لم يهاجروا قتالهم؛ فلا تعينوهم عليهم؛ لأجل ما بينَكم وبينَهم من الميثاق. {والله بما تعملونَ بصيرٌ}: يعلمُ ما أنتم عليه من الأحوال، فيشرعُ لكم من الأحكام ما يَليقُ بكم.