تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 65

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلَی الۡقِتَالِ ؕ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ یَغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾
اے نبی! ایمان والوں کو لڑائی پر ابھار، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک سو ہوں تو ان ہزار پر غالب آئیں گے جنھوں نے کفر کیا۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔ En
اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے
En
اے نبی! ایمان والوں کو جہاد کا شوق دلاؤ اگر تم میں بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے، تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر تم میں ایک سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے اس واسطے کہ وه بے سمجھ لوگ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ اے نبی! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ یعنی آپ انھیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو، یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پرمرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کیے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ (النساء: 4؍104) اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔﴿ اِنْ یَّؔكُنْ مِّؔنْكُمْ اے مومنو! اگر ہوں تم میں سے ﴿ عِشْ٘رُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَاِنْ یَّؔكُنْ مِّؔنْكُمْ مِّؔائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں گے وہ دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص تو غالب ہوں گے ہزار کافروں پر یعنی ایک مومن دس کافروں کا مقابلہ کرے گا اور اس کا سبب یہ ہے ﴿ بِاَنَّهُمْ کہ وہ یعنی کفار ﴿ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے یعنی انھیں کوئی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ پس یہ کفار زمین میں اقتدار، تغلب اور اس میں فساد پھیلانے کے لیے لڑتے ہیں اور تم (اے مسلمانو)! اس جنگ کا مقصد سمجھتے ہو کہ یہ جنگ اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ، کتاب اللہ کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی کامیابی کے حصول کے لیے ہے اور یہ تمام امور شجاعت، صبر و ثبات اور اقدام علی القتال کے اسباب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيه - صلى الله عليه وسلم -: {يا أيُّها النبيُّ حرِّض المؤمنين على القتال}؛ أي: حُثَّهم ونهِّضْهم إليه بكل ما يقوِّي عزائمهم وينشط هممهم؛ من الترغيب في الجهاد ومقارعة الأعداء، والترهيب من ضدِّ ذلك، وذكر فضائل الشجاعة والصبر، وما يترتَّب على ذلك من خير الدنيا والآخرة، وذكر مضارِّ الجبن، وأنه من الأخلاق الرذيلة المنقصة للدين والمروءة، وأن الشجاعة بالمؤمنين أولى من غيرهم، {إن تكونوا تألَمونَ فإنَّهم يألَمونَ كما تألَمونَ وترجونَ من الله ما لا يرجون}. {إن يكن منكم}: أيها المؤمنون، {عشرون صابرون يغلبوا مائتين وإن يكن منكُم مائةٌ يغلبوا ألفاً من الذين كفروا}: يكون الواحد بنسبة عشرة من الكفار، وذلك بأنَّ الكفار {قومٌ لا يفقهون}؛ أي: لا علم عندهم بما أعدَّ الله للمجاهدين في سبيله؛ فهم يقاتلون لأجل العلوِّ في الأرض والفساد فيها، وأنتم تفقهون المقصود من القتال أنَّه لإعلاء كلمة الله، وإظهار دينه، والذبِّ عن كتاب الله وحصول الفوز الأكبر عند الله، وهذه كلُّها دواعٍ للشجاعة والصبر والإقدام على القتال.