تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ یٰۤاَیُّهَاالنَّبِیُّحَسْبُكَاللّٰهُ ﴾”اے نبی اللہ آپ کو کافی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ ﴿ وَمَنِاتَّبَعَكَمِنَالْمُؤْمِنِیْنَ ﴾”اور آپ کے متبعین اہل ایمان کے لیے (بھی) کافی ہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے، جو اس کے رسول کے اطاعت گزار ہیں، کافی ہونے کا اور ان کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ ہے۔ جب انھوں نے ایمان اور اتباع رسول کے سبب کو اختیار کیا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دین و دنیا کی پریشانیوں سے ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کی کفایت تو صرف اپنی شرط کے معدوم ہونے پر معدوم ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {يا أيها النبيُّ حسبك الله}؛ أي: كافيك، {ومن اتَّبعك من المؤمنين}؛ أي: وكافي أتباعك من المؤمنين. وهذا وعدٌ من الله لعباده المؤمنين المتَّبعين لرسوله بالكفاية والنصرة على الأعداء؛ فإذا أتوا بالسبب الذي هو الإيمان والاتباع؛ فلا بدَّ أن يكفِيَهم ما أهمَّهم من أمور الدين والدنيا، وإنما تتخلَّف الكفاية بتخلُّف شرطها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔