تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ:} یعنی سمجھ سے کام نہیں لیتے، نہ ثواب یا شہادت کے حصول کی نیت ہوتی ہے، نہ عذاب سے بچنے کی، نہ ہی وہ کسی پائدار اور دائمی مقصد کے لیے لڑتے ہیں، اس لیے ان میں وہ جذبہ اور اخلاقی قوت موجود نہیں ہوتی جو انھیں میدانِ جنگ میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ عطا کرے، لہٰذا یہ ان سرفروش مجاہدین کا کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں جن کی بڑی تمنا شہادت کی فضیلت حاصل کرنا ہے؟
➌ بیس کے دو سو پر غالب آنے کے بعد سو کے ہزار پر غالب آنے کے بیان میں یہ حکمت ہے کہ لشکر چھوٹا ہو یا بڑا، ہر ایک کو یہ حکم ہے اور ہر ایک سے نصرت کا وعدہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک صبح یا شام اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و مافیہا سے افضل ہے۔“ [بخاري، كتاب الجهاد، باب الغدوة والروحة، فى سبيل الله- مسلم، كتاب الامارة، باب فضل الغدوة والروحة فى سبيل الله]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں جہاد کرنے والا کون ہے۔ ایسے ہے جیسے ہمیشہ کا روزہ دار اور شب زندہ دار۔ اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ اگر اسے موت آ گئی تو جنت میں داخل کرے گا یا پھر اسے اجر اور غنیمت کے ساتھ صحیح و سالم واپس لوٹائے گا۔“ [بخاري، كتاب الجهاد، باب افضل الناس مومن مجاهد بنفسه وماله]
3۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑا پا لے اور اس کی وجہ اللہ پر ایمان اور اس کے وعدوں کی تصدیق ہو تو بلا شبہ اس گھوڑے کا کھانا پینا، لید، پیشاب قیامت کے دن اس مجاہد کے ترازو میں (بطور نیکی) رکھے جائیں گے۔“ [بخاري، كتاب الجهاد من احتبس فرسا]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرماتا ہے ’ اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو۔ ‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا: { اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے۔ } عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی؟ فرمایا: { ہاں ہاں اتنی ہی۔ } اس نے کہا واہ واہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ کس ارادے سے کہا؟} کہا اس امید پر کہ اللہ مجھے بھی جنتی کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری پیشگوئی ہے کہ تو جنتی ہے۔ } وہ اٹھتے ہیں دشمن کی طرف بڑھتے ہیں اپنی تلوار کامیان توڑ دیتے ہیں کچھ کھجوریں جو پاس ہیں کھانی شروع کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں جتنی دیر میں انہیں کھاؤں اتنی دیر تک بھی اب یہاں ٹھہرنا مجھ پر شاق ہے انہیں ہاتھ سے پھینک دیتے ہیں اور حملہ کر کے شیر کی طرح دشمن کے بیچ میں گھس جاتے ہیں اور جوہر تلوار دکھاتے ہوئے کافروں کی گردنیں مارتے ہیں اور حملہ کرتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں رضی اللہ عنہ و رجاء۔۱؎ [صحیح مسلم:1901]
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو بشارت دیتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ ’ تم میں سے بیس ان کافروں میں سے دو سو پر غالب آئیں گے۔ ایک سو ایک ہزار پر غالب رہیں گے غرض ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے کا ہے۔‘ پھر حکم منسوخ ہو گیا لیکن بشارت باقی ہے جب یہ حکم مسلمانوں پر گراں گذرا۔ ایک دس کے مقابلے سے ذرا جھجکا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی اور فرمایا۔ اب اللہ نے بوجھ ہلکا کر دیا۔ لیکن جتنی تعداد کم ہوئی اتنا ہی صبر ناقص ہو گیا پہلے حکم تھا کہ ’ بیس مسلمان دو سو کافروں سے پیچھے نہ ہٹیں ‘ اب یہ ہوا کہ ’ اپنے سے دگنی تعداد یعنی سو دو سو سے نہ بھاگیں۔‘
پس گرانی گزرنے پر ضعیفی اور ناتوانی کو قبول فرما کر اللہ نے تخفیف کر دی۔ پس دگنی تعداد کے کافروں سے تو لڑائی میں پیچھے ہٹنا لائق نہیں ہاں اس سے زیادتی کے وقت طرح دے جانا جرم نہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت ہم صحابیوں رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھ کر فرمایا: { پہلا حکم اٹھ گیا۔} ۱؎[مستدرک حاکم:239/2:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيه - صلى الله عليه وسلم -: {يا أيُّها النبيُّ حرِّض المؤمنين على القتال}؛ أي: حُثَّهم ونهِّضْهم إليه بكل ما يقوِّي عزائمهم وينشط هممهم؛ من الترغيب في الجهاد ومقارعة الأعداء، والترهيب من ضدِّ ذلك، وذكر فضائل الشجاعة والصبر، وما يترتَّب على ذلك من خير الدنيا والآخرة، وذكر مضارِّ الجبن، وأنه من الأخلاق الرذيلة المنقصة للدين والمروءة، وأن الشجاعة بالمؤمنين أولى من غيرهم، {إن تكونوا تألَمونَ فإنَّهم يألَمونَ كما تألَمونَ وترجونَ من الله ما لا يرجون}. {إن يكن منكم}: أيها المؤمنون، {عشرون صابرون يغلبوا مائتين وإن يكن منكُم مائةٌ يغلبوا ألفاً من الذين كفروا}: يكون الواحد بنسبة عشرة من الكفار، وذلك بأنَّ الكفار {قومٌ لا يفقهون}؛ أي: لا علم عندهم بما أعدَّ الله للمجاهدين في سبيله؛ فهم يقاتلون لأجل العلوِّ في الأرض والفساد فيها، وأنتم تفقهون المقصود من القتال أنَّه لإعلاء كلمة الله، وإظهار دينه، والذبِّ عن كتاب الله وحصول الفوز الأكبر عند الله، وهذه كلُّها دواعٍ للشجاعة والصبر والإقدام على القتال.