تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 60

وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَہُمۡ ۚ اَللّٰہُ یَعۡلَمُہُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۰﴾
اور ان کے لیے جتنی کر سکو قوت کی صورت میں اور تیار بندھے گھوڑوں کی صورت میں تیاری رکھو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو ڈرائو گے اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمھاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ En
اور جہاں تک ہوسکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا
En
تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زده رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں خوب جان رہا ہے جو کچھ بھی اللہ کی راه میں صرف کرو گے وه تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے فرمایا: ﴿وَاَعِدُّوْا اور تیار کرو تمیعنی اپنے کفار دشمنوں کے لیے تیار کرو جو تمھیں ہلاک کرنے اور تمھارے دین کے ابطال کے درپے رہتے ہیں۔ ﴿ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُ٘وَّ٘ةٍ اپنی طاقت بھر قوت۔ یعنی قوت عقلیہ، قوت بدنیہ اور مختلف انواع کا اسلحہ، جو دشمن کے خلاف جنگ میں تمھاری مدد کرے۔ کفار کے خلاف اس تیاری میں وہ تمام صنعتیں آجاتی ہیں جن سے اسلحہ اور آلات حرب بنائے جاتے ہیں، مثلاً: توپیں، مشین گنیں، بندوقیں، جنگی طیارے، بری اور بحری سواریاں، دفاعی قلعہ بندیاں، مورچے اور دیگر دفاعی آلات حرب وغیرہ۔ نیز حکمت عملی اور سیاست کاری میں مہارت پیدا کرنا، جس کے ذریعے سے وہ آگے بڑھ سکیں اور دشمن کے شر سے اپنا دفاع کر سکیں۔ نشانہ بازی، شجاعت اور جنگی منصوبہ سازی کی تعلیم حاصل کرنا۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اَلاَ اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ) سن لو، قوت سے مراد تیر اندازی ہے(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرمي… الخ، حدیث: 1917) کیونکہ عہد رسالت میں تیراندازی، جنگ کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھا۔ نیز ان گاڑیوں کی تیاری، جو جنگ میں ونقل و حرکت میں کام آتی ہیں، جنگی استعداد میں شمار ہوتی ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَّمِنْ رِّبَ٘اطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمْ اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر، کہ اس سے دھاک بٹھاؤ تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر اس حکم کی علت، اس زمانے میں بھی موجود ہے اور وہ ہے دشمنوں کو مرعوب رکھنا۔ حکم کا دارومدار علت پر ہوتا ہے۔ اگر دنیا میں ایسے آلات اور سامان حرب موجود ہوں جن کے ذریعے سے دشمن کو مذکورہ چیزوں سے زیادہ خوف زدہ رکھا جا سکتا ہو...، یعنی گاڑیاں اور ہوائی طیارے جو جنگ میں کام آتے ہیں اور جن کی ضرب بھی کاری ہے.... تو ان کو حاصل کر کے ان کے ذریعے سے جنگی استعداد بڑھانا فرض ہے۔ حتیٰ کہ اگر اس سامان حرب کو صنعت کی تعلیم حاصل کیے بغیر، حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو یہ تعلیم حاصل کرنا بھی فرض ہو گا کیونکہ فقہی قاعدہ ہے (مَالَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ اِلَّا بِہٖ فَھُوَ وَاجِبٌ) جس کے بغیر واجب کی تکمیل ممکن نہ ہو تو وہ بھی واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمْ میں تمھارے دشمن سے مراد وہ ہیں جن کے بارے میں تم جانتے ہو کہ وہ تمھارے دشمن ہیں۔ ﴿ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ۠ اور دوسروں پر ان کے سوا، جن کو تم نہیں جانتے یعنی جن کے بارے میں تمھیں معلوم نہیں جو اس وقت کے بعد، جب اللہ تم سے مخاطب ہے، تمھارے ساتھ لڑائی کریں گے۔ ﴿ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ اللہ ان کو جانتا ہے پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔
دشمن کے خلاف جنگ میں جو چیز سب سے زیادہ مدد دیتی ہے وہ ہے کفار کے خلاف جہاد میں مال خرچ کرنا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں خواہ یہ قلیل ہو یا کثیر ﴿ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وہ پورا پورا تمھیں دیا جائے گا یعنی قیامت کے روز اس کا اجر کئی گنا کر کے ادا کیا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کا ثواب سات سو گنا سے لے کر اس سے بھی زیادہ بڑھا کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اور تمھاری حق تلفی نہ ہوگی یعنی تمھارے لیے اس کے اجر و ثواب میں کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وأعدُّوا}: لأعدائكم الكفار الساعين في هلاككم وإبطال دينكم، {ما استطعتُم من قوَّةٍ}؛ أي: كل ما تقدرون عليه من القوَّة العقليَّة والبدنيَّة وأنواع الأسلحة ونحو ذلك مما يعين على قتالهم، فدخل في ذلك أنواع الصناعات التي تُعمل فيها أصنافُ الأسلحة والآلات من المدافع والرشاشات والبنادق والطيارات الجويَّة والمراكب البريَّة والبحريَّة [والحصون] والقلاع والخنادق وآلات الدفاع والرأي والسياسة التي بها يتقدَّم المسلمون ويندفعُ عنهم به شرُّ أعدائهم وتعلُّم الرمي والشجاعة والتدبير، ولهذا قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «ألا إنَّ القوَّة الرمي». ومن ذلك الاستعداد بالمراكب المحتاج إليها عند القتال، ولهذا قال تعالى: {ومِن رِباط الخيل تُرهِبونَ به عدوَّ الله وعدوَّكم}: وهذه العلة موجودةٌ فيها في ذلك الزمان، وهي إرهاب الأعداء. والحكمُ يدور مع علَّته؛ فإذا كان موجوداً شيء أكثر إرهاباً منها ـ كالسيارات البريَّة والهوائيَّة المعدَّة للقتال التي تكون النكاية فيها أشد؛ كانت مأموراً

بالاستعداد بها والسعي لتحصيلها، حتى إنها إذا لم توجد إلا بتعلُّم الصناعة؛ وجب ذلك؛ لأنَّ ما لا يتمُّ الواجب إلا به فهو واجب. وقوله: {تُرْهِبونَ به عدوَّ اللهِ وعدوَّكم}: ممن تعلمون أنهم أعداؤكم، {وآخرين مِن دونهم لا تعلمونَهم}: ممَّن سيقاتلونكم بعد هذا الوقت الذي يخاطبهم الله به، {الله يعلمُهم}: فلذلك أمرهم بالاستعداد لهم. ومن أعظم ما يُعين على قتالهم بذلُ النفقات المالية في جهاد الكفار، ولهذا قال تعالى مرغباً في ذلك: {وما تنفقوا من شيءٍ في سبيل الله}: قليلاً كان أو كثيراً، {يوفَّ إليكم}: أجره يوم القيامة مضاعفاً أضعافاً كثيرة، حتى إن النفقة في سبيل الله تضاعف إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة، {وأنتم لا تُظلمون}؛ أي: لا تُنْقَصون من أجرها وثوابها شيئاً.