تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ:} اس حکم سے سوار فوج کی اہمیت ظاہر ہے۔{ ” قُوَّةٍ “} اور {” رِبَاطِ الْخَيْلِ “} میں فوجی گاڑیاں، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، جنگی جہاز، آبدوزیں، بحری بیڑے، جاسوسی کے آلات اور ادارے، اعلام کے ذرائع سب آ جاتے ہیں، مگر ان سب کے باوجود قیامت تک جنگ میں گھوڑوں کی ضرورت اور اہمیت کبھی ختم نہیں ہو گی۔ جو کام یہ مبارک جانور سر انجام دے سکتا ہے دنیا کی کوئی چیز نہیں دے سکتی۔ عروہ بارقی اور جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”یہ گھوڑے، ان کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک خیر باندھ دی گئی ہے، اجر اور غنیمت۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الخیل …: ۱۸۷۲، ۱۸۷۳] اس لیے مسلمانوں کو ڈرائیور، پائلٹ، ملاح، بحری مجاہد، تیراک اور غوطہ خور ہونے کے ساتھ ساتھ گھڑ سوار ہونا بھی لازم ہے۔
➌ { تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ:} یعنی اس قدر مضبوط تیاری رکھو کہ اللہ کا دشمن اور تمھارا دشمن اور تمھارے ساتھ کد رکھنے والا ہر شخص تم سے خوف زدہ رہے اور لڑنے کی جرأت ہی نہ کر سکے۔ ان واضح دشمنوں میں مشرکین، یہود و نصاریٰ اور جانے پہچانے منافق سب شامل ہیں۔
➍ {وَ اٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ:} اس سے مراد مسلمانوں کی صفوں میں کفار کے چھپے ہوئے ہمدرد منافق ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۰۱) علاوہ ازیں کئی اقوام جو بظاہر اس وقت تمھارے خلاف نہیں، مگر موقع پانے پر دل میں تم سے لڑائی کا ارادہ رکھتی ہیں، تمھاری مکمل تیاری اور ہر وقت جہاد میں مصروف رہنا سب کو خوف زدہ رکھے گا۔ بعض مفسرین نے اس سے جن و شیاطین کے لشکر مراد لیے ہیں، تمھاری تیاری کی بدولت وہ بھی دشمنوں کے دلوں میں لڑائی کے جذبات نہیں ابھار سکیں گے۔
➎ {وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ …:} اس سے جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب مقصود ہے۔ فی سبیل اللہ خرچ کی فضیلت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برسر منبر یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ قوت سے مراد تیر چلانا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین بار دہرایا اور فرمایا۔ سن لو! اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں فتح دے گا اور محنت سے کفایت کرے گا۔ لہٰذا کوئی بھی تم میں سے اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے [ترمذي، ابواب التفسير]
2۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تیر اندازی سیکھی، پھر اسے چھوڑ دیا وہ ہم سے نہیں یا اس نے نافرمانی کی۔“ [مسلم، كتاب الامارة، باب فضل الرمي والحث عليه الخ]
3۔ سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے وہ تیر اندازی کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے بنی اسماعیل! تیر اندازی کرو۔ بے شک تمہارے باپ بڑے تیر انداز تھے اور میں بنی فلاں کے ساتھ ہوں۔“ اب دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم تیر اندازی کیوں نہیں کرتے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کیسے تیر پھینکیں جبکہ آپ ان کے ساتھ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو میں سب کے ساتھ ہوں۔“ [بخاري۔ كتاب الجهاد۔ باب التحريص على الرمي]
4۔ عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جو گھوڑے گھڑ دوڑ کے لیے تیار کئے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دوڑ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور جو تیار نہیں کئے گئے تھے۔ ان کی دوڑ مسجد بنی زریق تک مقرر فرمائی اور میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے گھوڑے دوڑائے تھے۔ [بخاري۔ كتاب الصلوة، باب هل يقال مسجد بني فلاں]
5۔ سیدۃ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک (عید کے) دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا۔ اور حبشی مسجد میں اپنے ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر سے مجھے ڈھانپے ہوئے تھے اور میں بھی ان کا کھیل دیکھ رہی تھی۔ [بخاري۔ كتاب الصلوة۔ باب اصحاب الحراب فى المسجد]
مگر آج تیر و تلوار کا زمانہ نہیں۔ بلکہ کلاشکوفوں اور میزائلوں اور بموں کا زمانہ ہے۔ لہٰذا آج مسلمانوں کو ان جدید آلات سے پوری طرح آگاہ اور ان کے استعمال کرنے کی تربیت ہونی چاہیے۔ آج مسلمان اس معاملہ میں جتنی غفلت برت رہے ہیں اسی نسبت سے دوسری قوموں کے محتاج اور ان کے سامنے ذلیل ہو رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے «أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [29-العنکبوت: 4] ’ برائیاں کرنے والے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔‘
اور جگہ فرماتا ہے «لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ وَلَبِئْسَ الْمَصِيرُ» ۱؎ [24-النور: 57] ’ کافر ہمیں یہاں ہرا نہیں سکتے وہاں کا ٹھکانا آگ ہے جو بدترین جگہ ہے‘
اور فرمان ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» ۱؎ [3-آل عمران: 196، 197] ’ کافروں کا شہروں میں آنا جانا چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بدترین گود ہے۔‘
پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی طاقت و امکان کے مطابق ان کفار کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہو جو قوت طاقت گھوڑے، لشکر رکھ سکتے ہیں موجود رکھو۔ مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر قوت کی تفسیر تیر اندازی سے کی اور دو مرتبہ یہی فرمایا: { تیر اندازی کیا کرو سواری کیا کرو اور تیر اندازی گھوڑ سواری سے بہتر ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:1917]
فرماتے ہیں { گھوڑوں کے پالنے والے تین قسم کے ہیں ایک تو اجر و ثواب پانے والے، ایک نہ تو ثواب نہ عذاب پانے والے ایک عذاب بھگتنے والے۔ جو جہاد کے ارادے سے پالے اس کے گھوڑے کا چلنا پھرنا تیرنا، چگنا باعث ثواب ہے یہاں تک کہ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر کہیں چڑھ جائے تو بھی اس کے نشانات قدم اور اس کی لید پر اسے نیکیاں ملتی ہیں کسی نہر پر گزارتے ہوئے وہ پانی پی لے اگرچہ مجاہد نے پلانے کا ارادہ نہ بھی کیا ہو تاہم اسے نیکیاں ملتی ہیں۔ پس یہ گھوڑا تو اس کے پالنے والے کے لیے بڑے اجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔ اور جس شخص نے گھوڑا اس نیت سے پالا کہ وہ دوسروں سے بے نیاز ہو جائے پھر اللہ کا حق بھی اس کی گردن اور اس کی سواری میں نہیں بھولا یہ اس کے لیے جائز ہے یعنی نہ اسے اجر نہ اسے گناہ۔ تیسرا وہ شخص جس نے فخر و ریا کے طور پر پالا اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے وہ اس کے ذمے و بال ہے اور اس کی گردن پر بوجھ ہے} ۱؎ [سنن ترمذي:1637،قال الشيخ الألباني:حسن]
اکثر علماء کا قول ہے کہ تیر اندازی گھوڑ سواری سے افضل ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اس کے خلاف ہیں لیکن جمہور کا قول قوی ہے کہ کیونکہ حدیث میں آ چکا ہے۔ حضرت معاویہ بن خدیج سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اس وقت وہ اپنے گھوڑے کی خدمت کر رہے تھے پوچھا تمہیں یہ گھوڑا کیا کام آتا ہے؟ فرمایا ”میرا خیال ہے کہ اس جانور کی دعا میرے حق میں قبول ہو گی۔“ کہا جانور اور دعا؟ فرمایا ”ہاں اللہ کی قسم ہر گھوڑا ہرصبح دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تو نے مجھے اپنے بندوں میں سے ایک کے حوالے کیا ہے تو مجھے اس کی تمام اہل سے اور مال سے اور اولاد سے زیادہ محبوب بنا کر اس کے پاس رکھ۔“۱؎ [مسند احمد:162/5:صحیح]
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر عربی گھوڑے کو ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی بندھی ہوئی ہے گھوڑوں والے اللہ کی مدد میں ہیں اسے نیک نیتی سے جہاد کے ارادے سے پالنے والا ایسا ہے جیسے کوئی شخص ہر وقت ہاتھ بڑھاکر خیرات کرتا رہے۔} ۱؎ [سنن ابوداود:4089،قال الشيخ الألباني:صحیح موقوف]
فرماتا ہے ’ اس سے تمہارے دشمن خوف زدہ اور ہیبت خوردہ رہیں گے ان ظاہری مقابلے کے دشمنوں کے علاوہ اور دشمن بھی ہیں۔ ‘ یعنی بنو قریظہ، فارس اور محلوں کے شیاطین۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ اس سے مراد جنات ہیں۔ ایک منکر حدیث میں ہے جس گھر میں کوئی آزاد گھوڑا ہو وہ گھر کبھی بد نصیب نہیں ہو گا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:ضعیف189/17] لیکن اس روایت کی تو سند ٹھیک ہے نہ یہ صحیح ہے۔
اور اس سے مراد منافق بھی لی گئی ہے۔ اور یہی قول زیادہ مناسب بھی ہے جیسے فرمان الٰہی ہے «وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ» ۱؎ [9- التوبہ: 101] ’ تمہارے چاروں طرف دیہاتی اور شہری منافق ہیں جنہیں تم نہیں جانتے لیکن ہم ان سے خوب واقف ہیں۔‘
پھر ارشاد ہے کہ ’ جہاد میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا بدلہ پاؤ گے۔‘ ابوداؤد میں ہے کہ ایک درہم کا ثواب سات سو گنا کر کے ملے گا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2498،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
جیسے کہ «مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ۱؎ [2- البقرة: 261] اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { وہ بھی جو سوال کرے چاہے وہ کسی دین کا ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔} ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:9114/5:ضعیف] یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم نے اسے روایت کیا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وأعدُّوا}: لأعدائكم الكفار الساعين في هلاككم وإبطال دينكم، {ما استطعتُم من قوَّةٍ}؛ أي: كل ما تقدرون عليه من القوَّة العقليَّة والبدنيَّة وأنواع الأسلحة ونحو ذلك مما يعين على قتالهم، فدخل في ذلك أنواع الصناعات التي تُعمل فيها أصنافُ الأسلحة والآلات من المدافع والرشاشات والبنادق والطيارات الجويَّة والمراكب البريَّة والبحريَّة [والحصون] والقلاع والخنادق وآلات الدفاع والرأي والسياسة التي بها يتقدَّم المسلمون ويندفعُ عنهم به شرُّ أعدائهم وتعلُّم الرمي والشجاعة والتدبير، ولهذا قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «ألا إنَّ القوَّة الرمي». ومن ذلك الاستعداد بالمراكب المحتاج إليها عند القتال، ولهذا قال تعالى: {ومِن رِباط الخيل تُرهِبونَ به عدوَّ الله وعدوَّكم}: وهذه العلة موجودةٌ فيها في ذلك الزمان، وهي إرهاب الأعداء. والحكمُ يدور مع علَّته؛ فإذا كان موجوداً شيء أكثر إرهاباً منها ـ كالسيارات البريَّة والهوائيَّة المعدَّة للقتال التي تكون النكاية فيها أشد؛ كانت مأموراً
بالاستعداد بها والسعي لتحصيلها، حتى إنها إذا لم توجد إلا بتعلُّم الصناعة؛ وجب ذلك؛ لأنَّ ما لا يتمُّ الواجب إلا به فهو واجب. وقوله: {تُرْهِبونَ به عدوَّ اللهِ وعدوَّكم}: ممن تعلمون أنهم أعداؤكم، {وآخرين مِن دونهم لا تعلمونَهم}: ممَّن سيقاتلونكم بعد هذا الوقت الذي يخاطبهم الله به، {الله يعلمُهم}: فلذلك أمرهم بالاستعداد لهم. ومن أعظم ما يُعين على قتالهم بذلُ النفقات المالية في جهاد الكفار، ولهذا قال تعالى مرغباً في ذلك: {وما تنفقوا من شيءٍ في سبيل الله}: قليلاً كان أو كثيراً، {يوفَّ إليكم}: أجره يوم القيامة مضاعفاً أضعافاً كثيرة، حتى إن النفقة في سبيل الله تضاعف إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة، {وأنتم لا تُظلمون}؛ أي: لا تُنْقَصون من أجرها وثوابها شيئاً.