تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 59

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَبَقُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ لَا یُعۡجِزُوۡنَ ﴿۵۹﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ہرگز گمان نہ کریں کہ وہ (بچ کر) نکل گئے، بے شک وہ عاجز نہیں کریں گے۔ En
اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے
En
کافر یہ خیال نہ کریں کہ وه بھاگ نکلے۔ یقیناً وه عاجز نہیں کر سکتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والے اور اس کی آیات کو جھٹلانے والے یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بازی لے گئے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہے اور کفار کو مہلت دینے اور ان کو سزا دینے میں عجلت نہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پنہاں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کی آزمائش، ان کا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کو زاد راہ بنانا جس کے ذریعے سے وہ مقامات بلند پر پہنچتے ہیں اور ان کا اپنے آپ کو ان اخلاق و اوصاف سے متصف کرنا جن کے بغیر وہ اس منزل پر نہیں پہنچ سکتے تھے .... سب اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہی کا حصہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لا يحسب الكافرون بربِّهم المكذِّبون بآياته أنهم سبقوا الله وفاتوه؛ فإنهم لا يعجزونه، والله لهم بالمرصاد، وله تعالى الحكمة البالغة في إمهالهم وعدم معاجلتهم بالعقوبة، التي من جملتها ابتلاء عباده المؤمنين وامتحانُهم وتزوُّدهم من طاعته ومراضيه ما يصلون به إلى المنازل العالية واتصافُهم بأخلاق وصفات لم يكونوا بغيره بالغيها؛ فلهذا قال لعباده المؤمنين: