تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 46

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَ تَذۡہَبَ رِیۡحُکُمۡ وَ اصۡبِرُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں مت جھگڑو، ورنہ بزدل ہو جائو گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ En
اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے
En
اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوْا اور آپس میں نہ جھگڑنا۔ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں۔ ﴿فَتَفْشَلُوْا پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔ ﴿ وَتَذْهَبَ رِیْحُكُمْ اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصْبِرُوْا اور صبر سے کام لو۔ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِیْنَ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأطيعوا الله ورسوله}: في استعمال ما أمرا به والمشي خلف ذلك في جميع الأحوال، {ولا تنازعوا}: تنازعاً يوجِبُ تشتُت القلوب وتفرقها، {فتفشلوا}؛ أي: تجبُنوا، {وتذهبَ ريحُكم}؛ أي: تنحلُّ عزائمكم وتُفرَّقُ قوتكم ويُرْفَعُ ما وُعِدتم به من النصر على طاعة الله ورسوله، {واصبروا}: نفوسَكم على طاعة الله. {إنَّ الله مع الصابرين}: بالعون والنصر والتأييد.