تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 45

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ En
مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو
En
اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ﺛابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثْبُتُوْا تو ثابت قدم رہو۔ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفْلِحُوْنَ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا إذا لَقيتُم فئةً}؛ أي: طائفة من الكفار تقاتلكم، {فاثبُتوا}: لقتالها، واستعمِلوا الصبر وحبس النفس على هذه الطاعة الكبيرة، التي عاقبتُها العزُّ والنصر، واستعينوا على ذلك بالإكثار من ذكر اللَّه. {لعلَّكم تفلحون}؛ أي: تدركون ما تطلبون من الانتصار على أعدائكم؛ فالصبرُ والثبات والإكثار من ذِكْر الله من أكبر الأسباب للنصر.