تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْۤااِذَالَقِیْتُمْفِئَةً ﴾”اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو“ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثْبُتُوْا﴾”تو ثابت قدم رہو۔“ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفْلِحُوْنَ ﴾”تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا إذا لَقيتُم فئةً}؛ أي: طائفة من الكفار تقاتلكم، {فاثبُتوا}: لقتالها، واستعمِلوا الصبر وحبس النفس على هذه الطاعة الكبيرة، التي عاقبتُها العزُّ والنصر، واستعينوا على ذلك بالإكثار من ذكر اللَّه. {لعلَّكم تفلحون}؛ أي: تدركون ما تطلبون من الانتصار على أعدائكم؛ فالصبرُ والثبات والإكثار من ذِكْر الله من أكبر الأسباب للنصر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔