اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھاوا کرتے ہوئے نکلے اور وہ اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اللہ اس کا جو وہ کر رہے تھے، احاطہ کرنے والا تھا۔
En
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے
ان لوگوں جیسے نہ بنو جو اتراتے ہوئے اور لوگوں میں خود نمائی کرتے ہوئے اپنے گھروں سے چلے اور اللہ کی راه سے روکتے تھے، جو کچھ وه کر رہے ہیں اللہ اسے گھیر لینے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَاتَكُوْنُوْاكَالَّذِیْنَخَرَجُوْامِنْدِیَ٘ارِهِمْبَطَرًاوَّرِئَآءَالنَّاسِوَیَصُدُّوْنَعَنْسَبِیْلِاللّٰهِ﴾”اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے“ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُبِمَایَعْمَلُوْنَمُحِیْطٌ ﴾”اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں “ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
واخشعوا لربكم واخضعوا له، {ولا تكونوا كالذين خَرَجوا من ديارهم بطراً ورِئاءَ الناس ويصدُّون عن سبيل الله}؛ أي: هذا مقصدهم الذي خرجوا إليه، وهذا الذي أبرزهم من ديارِهم؛ لقصدِ الأشَرِ والبطر في الأرض، وليراهم الناس ويفخروا لديهم، والمقصود الأعظم أنهم خرجوا ليصدُّوا عن سبيل الله من أراد سلوكه. {والله بما يعملون محيطٌ}: فلذلك أخبركم بمقاصدهم، وحذَّركم أن تشبَّهوا بهم؛ فإنه سيعاقبهم على ذلك أشدَّ العقوبة، فليكنْ قصدُكم في خروجكم وجهَ الله تعالى، وإعلاء دين الله، والصدَّ عن الطرق الموصلة إلى سَخَطِ الله وعقابِهِ، وجَذْبَ الناس إلى سبيل الله القويم الموصل لجنات النعيم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔